Saturday, 25 August, 2007, 05:18 GMT 10:18 PST
شہزاد ملک
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کی ایک احتساب عدالت نے احتساب کے حکومتی ادارے ’نیب‘ کی استدعا کو رد کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اور ان کے خاندان کے دیگر ارکان کے بدعنوانی کے مقدمات میں گرفتاری کےسمن (وارنٹ) جاری کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
سنیچر کو راولپنڈی کی احتساب عدالت (نمبر چار) کے جج چودھری خالد محمود نے حکومتی استدعا نامنظور کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان کے حوالے سے سپریم کورٹ آف پاکستان کا فیصلہ سامنے آ چکا ہے اور اب ان کی وطن واپسی سے پہلے ان کے خلاف کوئی سمن (وارنٹ) جاری نہیں کیا جائے گا۔ عدالت نے کہا کہ ان مقدمات پر جو بھی کارروائی ہوگی وہ ملزمان کی وطن واپسی پر ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ عدالت نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ بدعنوانی کے مقدمات کے فیصلے میں اگر میاں شریف کے ذمے کوئی ادائیگی نکلی تو ان کے قانونی ورثاء سے حاصل کی جائے گی جس پر عدالت نے کہا کہ اگر ایسی کوئی بات ہوئی تو عدالت میں اس ضمن میں دوبارہ درخواست دی جائے۔ عدالت نے مقدمے کی سماعت کی اگلی تاریخ سات سمتبر مقرر کی ہے۔
احتساب عدالت نے نیب کی طرف سے دو اگست کو دائر کی جانے والی درخواست پر نواز شریف اور ان کے خاندان کے دیگر افراد کے خلاف دائر تین مقدمات پر از سر نو کارروائی شروع کی تھی۔
واضح رہے کہ سنہ دو ہزار میں درج کیے جانے والے یہ مقدمات حدیبیہ پیپرز ملز، اتفاق فونڈریز اور رائے ونڈ میں غیر قانونی اثاثہ جات بنانے کے حوالے سے قائم کیے گئے تھے۔
احتساب عدالت نے بارہ اپریل سنہ دو ہزار ایک کو نیب کی طرف سے درخواست پر ان مقدمات کی سماعت غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کر دی تھی۔
ذوالفقار بھٹہ کے مطابق حدبیہ پیپرز ملز کے مقدمے میں نو افراد کو نامزد کیا گیا تھا ان میں میاں محمد شریف مرحوم، نواز شریف، شہباز شریف، میاں عباس شریف، حسین نواز، حمزہ شہباز، شمیم اختر بیوہ محمد شریف، صبیحہ عباس زوجہ میاں عباس شریف اور نواز شریف کی بیٹی مریم صفدر زوجہ محمد صفدر شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اتفاق فونڈریز کے مقدمے میں چھ افراد کو نامزد کیا گیا ہے ان میں میاں محمد شریف، نواز شریف، شہباز شریف، عباس شریف، مختار حسین اور کمال قریشی شامل ہیں جبکہ رائے ونڈ میں واقع اثاثہ جات کے مقدمے میں میاں محمد شریف ان کی اہلیہ شمیم اختر اور میاں نواز شریف نامزد ملزم ہیں۔