Thursday, 23 August, 2007, 13:09 GMT 18:09 PST
پاکستان کے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے سپریم کورٹ کی طرف سے ان کی درخواست پر ان کی حمایت میں فیصلے پر رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ ملک میں جمہوریت کی جیت ہے، پاکستانی عوام کی فتح ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’یہ فیصلہ مشرف صاحب کے آٹھ سالہ ظالمانہ دور کی شکست ہے۔ یہ ایک جابرانے فوجی حکومت کی شکست ہے۔‘
ان سے جب اے آر ڈی کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ’اے آر ڈی تو ہے ہی نہیں۔ اس کا وجود ختم ہو چکا ہے۔ جو بھی ہوگا اے پی ڈی ایم کے تحت ہوگا۔‘ انہوں نے کہا کہ ’ہمیں افسوس ہے کہ بینظیر نے اپنا راستہ علیحدہ کر دیا ہے۔‘
اس سوال کے جواب میں کہ کیا وہ پاکستان لوٹنے پر جیل جانے کے لیے تیار ہیں، انہوں نے کہا کہ وہ کسی بھی صورت حال کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ واپسی کا پروگرام پارٹی کے فیصلے کے مطابق اور اتحادیوں سے بات چیت کے بعد طے ہوگا۔
سابق وزیراعظم نواز شریف نے لندن میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ مشرف دور کے خاتمے کی شروعات ہیں‘۔
ان کے بھائی اور پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف نے وطن واپسی کے لیے نواز شریف کے بیان کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ جونہی پارٹی کے لوگ فیصلے کے سلسلے میں خوشی، نوافل اور شکرانے سے فارغ ہوتے ہیں پارٹی کا اجلاس بلایا جائے گا اور وطن واپسی کا بلا تاخیر فیصلہ کیا جائے گا۔
نواز شریف اور خود پر مقدمات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ نواز شریف یا ان کے خلاف کوئی کیس نہیں ہے۔ تاہم قومی احتساب بیورو، نیب کے مقدمات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ’ان مقدمات کا ڈٹ مقابلہ کریں گے‘۔
بینظیر سے رابطوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ماضی میں یہ غلطی ہوتی رہی ہے کہ سماجی مراسم تک نہیں رہے لیکن اب ان سے رابطہ ہے اور اب ماضی کی غلطیوں کو دہرائیں گے نہیں۔
اب مارشل لاء نہیں آئے گا |
انہوں نے کہا کہ لوگ اب نئے مستقبل کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ اب مارشل لاء نہیں آئے گا۔ اب ایمرجنسی نہیں آئے گی اور صدر صاحب جو الیکشن لڑ رہے ہیں اس میں بھیں ان کے لیے کچھ مشکلات ہوں گی۔