Friday, 24 August, 2007, 00:31 GMT 05:31 PST
احمد رضا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے جس کے تحت سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف کا بغیر کسی رکاوٹ کے وطن واپس آنے کا حق تسلیم کیا گیا ہے۔
ان میں بعض ایسی شخصیات بھی شامل ہیں جو خود بھی جلا وطنی کے کرب سے گزر چکی ہیں۔ بزرگ سیاستدان اجمل خٹک ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے اور افغانستان میں سولہ سال جلاوطن رہے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ عدلیہ کی آزادی کی واضح دلیل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی واپسی کا راستہ ہموار ہوگیا ہے اور اب بےنظیر بھٹو اور الطاف حسین کو بھی وطن واپسی کے بارے میں سوچنا چاہیے۔
خود کو شیرِ پنجاب کہلانے والے غلام مصطفٰی کھر کو جنرل ضیاءالحق کے مارشل لاء کے فوراً بعد جلاوطن ہونا پڑا اور دس سال تک ملک سے باہر رہے۔
ان کا کہنا تھا ’جلاوطنی جن لوگوں نے گزاری ہے انہیں پتہ ہے کہ یہ کتنی بڑی اذیت اور سزا ہے ۔۔۔ مجھے آج اتنی ہی خوشی ہے جتنی اس وقت ہوئی تھی جب میں جلاوطنی ختم کر کے وطن واپس آیا تھا تو مجھے ہوئی تھی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے ملک و قوم کے لیے دور رس نتائج نکلیں گے۔ ’ملکی تاریخ میں پہلی بار امید کی کرن نظر آئی ہے کہ اب ملک میں انصاف ہوگا اور کوئی فرد واحد من مانی نہیں کر سکتا۔‘
ممتاز شاعرہ فہمیدہ ریاض بھی جلاوطنی کا تلخ تجربہ رکھتی ہیں۔ وہ مجبوراً وطن سے باہر رہنے کے دکھ کو تو محسوس کرتی ہیں، لیکن نواز شریف کے حوالے سے انہیں شکایت بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ صدر یا وزیر اعظم نہیں تھیں بلکہ ایک شاعرہ تھیں، پھر بھی نواز شریف کی حکومت نے ان کے ساتھ ایسا سلوک کیا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ نواز شریف کی جلاوطنی کو مکافاتِ عمل سمجھتی ہیں تو ان کا کہنا تھا ’مکافات عمل تو جو ہونا تھی ہوگئی، یہاں پر یہ وطیرہ رہا ہے کہ لوگ ایک دوسرے کو (دشمنوں کا) ایجنٹ کہتے رہے ہیں اور پھر باری باری خود ہی اس کا شکار بنتے رہے ہیں۔ یہ ایک افسوسناک کہانی ہے۔‘