http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 23 August, 2007, 13:35 GMT 18:35 PST

ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی

مندی: سرمایہ کاروں کا ردِ عمل

پاکستان میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی واپس کے بارے میں عدالتی فیصلے اور ایمرجنسی کے نفاد کے حوالے سے پھیلنے والی افواہوں نے بازارِ حصص کو متاثر کیا ہے۔ کراچی سٹاک ایکسچینج میں کے ایس سی انڈیکس میں جمعرات کو تین سو چوبیس پوائنٹس کی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ گزشتہ ایک ہفتے سے بازار حصص کو مندی کا سامنا ہے۔ جس سے سرمایہ کاروں کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا ہے۔

ایک وزیراعظم اور کاغذ کا ایک ٹکڑا
شریف خاندان کی جلاوطنی کے معاہدے کا عکس
میں نے معاہدے سے کبھی انکار نہیں کیا: شہباز شریف
پاکستانی اٹارنی جنرل کا ردعمل

جمعرات کی صبح کو مارکیٹ کی ابتدا چوبیس پوائنٹس سے ہوئی اور دوپہر بارہ بجے تک مارکیٹ مثبت رہی مگر بعد میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ سارا دن جاری رہا اور 12320 سے شروع ہونے والے کے ایس ای 100 انڈیکس کا اختتام 12001 پوائنٹس پر ہوا۔ ایک وقت مندی چار سو پوائنٹ تک پہنچ گئی تھی مگر مارکیٹ بند ہونے تک اس میں کچھ بہتری آگئی۔
سرمایہ کاروں کو یہ خوف تھا
 سرمایہ کاروں کو یہ خوف تھا کہ نواز شریف کی حمایت میں فیصلہ آجائے گا اور صدر پرویز مشرف کی کرسی برقرار رہنا مشکل ہوجائے گی مارکیٹ نے اس صورتحال پر منفی رد عمل کا اظہار کیا ہے
 

کراچی سٹاک ایکسچینج کے ایک ڈائریکٹر منیر لدھا کا کہنا ہے کہ یہ نواز شریف کی مندی ہے، سرمایہ کاروں کو یہ خوف ہے کہ نواز شریف کی حمایت میں فیصلہ آجائے گا اور صدر پرویز مشرف کی کرسی برقرار رہنا مشکل ہوجائے گی مارکیٹ نے اس صورتحال پر منفی رد عمل کا اظہار کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مارکیٹ کی ابتدا پچیس پوائنٹ مثبت سے ہوئی تھی، گیارہ بجے کے بعد جب سپریم کورٹ نے کہا کہ نواز شریف کی واپسی کے بارے میں آج ہی فیصلہ سنایا جائیگا تو مارکیٹ دباؤ میں آگئی۔

منیر لدھا کا کہنا تھا کہ سرمایہ کار سمجھتا ہے کہ مشرف چلے گئے اور نواز شریف واپس آتے ہیں اور سیاسی فضا مزید خراب ہوتی ہے تو ملک کی معشیت اور اسٹاک مارکیٹ پر اس کا بہت منفی اثر پڑے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے سرمایہ کار اپنا مال بیچ کر مارکیٹ سے کنارہ کش ہو رہے ہیں۔

واضح رہے کہ ڈیڑہ ماہ قبل کراچی اسٹاک ایکسچینج 14004 پوائنٹس پر پہنچ گئی تھی جو اس وقت مندی کے ساتھ دو ہزار پوائنٹس تک پہنچ چکی ہے۔