Wednesday, 22 August, 2007, 06:49 GMT 11:49 PST
ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی
کراچی میں منگل کی رات سے شروع ہونے والے موسلادھار بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے اور شہر میں کرنٹ لگنے کے واقعات میں سات افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
ایدھی حکام کا کہنا ہے کہ بدھ کی دوپہر تک ہونے والی ہلاکتیں آئی آئی چندریگر روڈ، عزیزآباد ، نیو کراچی، مواچھ گوٹھ اور کلفٹن کے علاقوں میں ہوئیں۔
مواچھ گوٹھ میں ہلاک ہونے والوں میں ایک باپ اور بیٹا شامل ہیں جبکہ آئی آئی چندریگر روڈ پر ہلاک ہونے والوں دنوں افراد کی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔
بارش نے معمولات زندگی کو سخت متاثر کیا ہے اور بارش کے باعث شہر کی تمام سڑکیں اور نشیبی علاقے زیر آب آگئے ہیں جہاں پانی سیلابی ریلے کی طرح بہہ رہا ہے۔ سرکاری اور نجی دفاتر میں حاضری نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ شہری حکومت نے بدھ کو تعلیمی ادارے بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ بھی معمول سے کم نظر آرہی ہے اور کئی نجی گاڑیاں سڑکوں پر خراب کھڑی ہیں۔
ایدھی فاؤنڈیشن کے فیصل ایدھی کا کہنا تھا کہ بارش کے پانی کے باعث بجلی کے کھمبوں اور دکانوں کے شٹروں میں کرنٹ آجاتا ہے اور لوگ راستے سے گزرتے ہوئے جب ان کو ہاتھ لگاتے ہیں تو کرنٹ لگ جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ جب تک کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کے حکام نہ پہنچ جائیں کوئی لاش کو ہاتھ بھی نہیں لگاتا۔
دوسری جانب محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ شدید بارش کا یہ سلسلہ آئندہ چوبیس گھنٹوں تک جاری رہےگا۔ محکمہ موسمیات کے حکام کے مطابق بدھ کی صبح تک ائرپورٹ پر 74ملی میٹر، فیصل بیس پر 80 ملی میٹر اور مسرور بیس پر 75 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔
کراچی کے علاوہ اندرون سندھ، حیدرآباد اور سانگھڑ میں بھی گزشتہ روز شدید بارش ہوئی ہے جس سےحیدرآْباد کے نشیبی علاقے لطیف آباد اور قاسم آباد زیر آب آگئے ہیں۔