Tuesday, 21 August, 2007, 01:40 GMT 06:40 PST
امریکہ کے سو سے زائد خارجہ پالیسی کے ماہرین نے کہا ہے کہ آئندہ تین سے پانچ برسوں میں دہشت گردوں کے ہاتھ جوہری ہتھیار لگ جائیں گے اور انہیں یہ ہتھیار پاکستان کی وجہ سے دستیاب ہوں گے۔
ان ماہرین نے کہا ہے کہ صدر مشرف کا مستقبل مخدوش نظر آتا ہے اور ملک القاعدہ کا اگلا گڑھ بن جائے گا۔ انہوں نے امکان ظاہر کیا کہ پاکستان میں دہشت گردی کا ایک بڑا طوفان آہستہ آہستہ جنم لے رہا ہے۔
سٹڈی کروانے والے ادارے کے مطابق ساٹھ فیصد امریکی عراق پر حملے کو غلطی کہتے ہیں لیکن نصف کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے اس پر فوجی حملے کے حق میں ہیں۔
جن سو ماہرین نے اس سٹڈی میں شرکت کی ہے ان میں امریکہ کی بڑی بڑی درسگاہوں کے پروفیسروں کے علاوہ دو سابق وزرائے خارجہ اور ایک قومی سلامتی کے سابق مشیر بھی شامل ہیں۔ ماہرین کی رائے کی یہ سٹڈی واشنگٹن کے ایک ادارے سینٹر فار امریکن پروگریس نے کی اور اسے ’فارن پالیسی‘ نامی جریدے نے شائع کیا ہے۔
ان کا ’پاکستان سے وابستہ خطرات‘ پر تو اتفاق رائے ہے مگر اس سے کس طرح نمٹا جائے اس کے لیے ان کے پاس کوئی ایک جواب نہیں ہے۔
ان ماہرین کی رائے میں پاکستان کے خفیہ ادارے اب بھی اسلامی شدت پسندوں سے تعاون کر رہے ہیں۔ مگر اس سٹڈی کے مطابق سب سے زیادہ چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ ماہرین نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ آئندہ تین سے پانچ برسوں میں دہشت گردوں کے ہاتھ جوہری ہتھیار لگ جائیں گے اور چوہتر فیصد ماہرین کے مطابق یہ ہتھیار انہیں پاکستان سے دستیاب ہوں گے جبکہ بیالیس فیصد نے کہا کہ جنوبی کوریا سے، اڑتیس فیصد نے کہا کہ روس سے اور ایران کے بارے میں اس خدشے کا اظہار صرف اکتیس فیصد نے کیا۔
آدھے سے زیادہ ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ کے پاکستان کے ساتھ تعلقات کے امریکہ کی سلامتی پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اس سٹڈی کے مطابق امریکہ کے وہ اتحادی جنہوں نے امریکہ کی سلامتی میں بہت ہی کم کردار ادا کیا ہے ان میں سر فہرست روس ہے جبکہ دوسرے نمبر پر پاکستان اور پھر سعودی عرب کا نام آتا ہے۔
اس کے مطابق ان ماہرین میں سے صرف چھ فیصد نے کہا کہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جیت رہا ہے۔ ان کی رائے میں عراق پر حملہ ایک غلطی تھی۔