Monday, 20 August, 2007, 17:01 GMT 22:01 PST
(اسلام آباد سٹوڈیوز سے ’پاکستان کے اگلے ساٹھ برس: توقعات و خدشات‘ کے عنوان سے سترہ اگست کو ایک پروگرام نشر کیا گیا یہ اس پروگرام کا ایک حصہ ہے جو پاکستان میں حکومت، حکومت میں عوام کی شرکت، فوج اور فوج کی حکومت سے علیحدگی کے بارے میں ہے۔ اس پروگرام میں وفاقی وزیر ریلوے اور تقریباً سدا بہار سیاستدان شیخ رشید احمد، انسٹیٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز کے ڈائریکٹر خالد رحمان اور لاہور کے معروف وکیل اور پیپلز پارٹی کے متحرک رکن آفتاب گل نے بھی شرکت کی)
پاکستان کے ساٹھ برس مکمل ہو چکے۔ اس میں سے آدھا وقت سویلینز کے نام پر اور آدھا وقت فوج براہ راست رہی۔ ساٹھ برس پہلے یہ کہا گیا تھا کہ پاکستان معاشی لحاظ سے سود مند ریاست نہیں ہوگی اور اب یہی ریاست ایٹمی قوت ہے۔ اس سب کے باوجود کہا جا رہا ہے کہ جس طرح ملک انیس سو اکہتر میں ٹوٹ گیا تھا، باقی ملک بھی کسی وقت ٹوٹ سکتا ہے۔ دہشت گردی اور شدت پسندی کا عفریت ہر شئے کو نگل جائے گا۔ اگلے ساٹھ برس تو دور کی بات ہے یہ ملک دو ہزار پچیس بھی دیکھ لے تو بہت بڑی بات ہوگی۔ حکومتیں روشن مستقبل کے بارے میں بظاہر پُر یقین باتیں کرتی رہتی ہیں لیکن سڑک کے آدمی کی رجائیت روزبروز کم ہوتی جا رہی ہے۔
شیخ رشید احمد: دیکھیں ہمارے پاس کوئی اور جگہ نہیں ہے، یہیں ہم نے زندہ رہنا ہے۔ سو یہ سوچنا کہ پاکستان جو خدانخواستہ ساٹھ سال بعد نہیں ہوگا لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ ساٹھ سال جو آئندہ آنے والے ہیں ان کے دوران، خود ہمارے جو مخالفین ہیں، دشمن ہیں خود ان کے مفاد میں ہے کہ پاکستان جو ہے قائم رہے۔ پاکستان کے اندر معاملات ضرور ہیں لیکن جب ہم نے ابتداء کی اس وقت دیکھیں ہمارے پاس کیا تھا۔ آج کیا ہے۔ آج ہمارا جی ڈی پی کیا ہے۔ آج ہم ایجوکیشن میں کہاں کھڑے ہیں۔ پنڈی (راولپنڈی)، میں اپنے شہر سے بات کرتا ہوں، ایک پنڈ (گاؤں) تھا، آج میں نے ساٹھ انسٹیٹیوشنز وہاں ایجوکیشن کے کھڑے کیے ہیں لیکن پاکستان میں ایک سوچ ہے کہ فوج ہے، بھئی فوج، یہ جتنی قیادت ہے فوج کی پیداوار ہے۔ کوئی ایک سیاستدان ایسا نہیں جو فوج کے گملے سے لگ کر جوان نہ ہوا ہو۔
ہماری جدوجہد تمام نہیں ہوئی |
خالد رحمان: انیس سو سینتالیس کو ایک مرحلہ سمجھنا چاہیے۔ اس کے بعد ہم نے ساٹھ سال گزارے ہیں، حقیقت میں ابھی تک ہماری جدوجہد تمام نہیں ہوئی ہے۔ اس کا احساس بڑا ضروری ہے کہ سب سے بڑا چیلنج یہ غیریقینی (بے یقینی)، ناامیدی اور مایوسی ہے۔ یہ آپ کی بات بالکل صحیح ہے، میں یہی عرض کر رہا ہوں کہ ہمارے دشمنوں نے بھی کوشش کی ہے خود ہمارے اندر بھی وہ فورسز موجود ہیں جو اس کو آگے بڑھا رہی ہیں۔
شیخ رشید احمد: دیکھیں بات یہ ہے کہ ابھی آفتاب صاحب نے عام آدمی کی بات کی، میں عام آدمی ہوں اس ملک کا۔ اسی لال حویلی کے سامنے میری ٹک شاپ تھی، میں کتابیں بیچا کرتا تھا۔ میرے باپ کا کوئی نام نہیں ہے اس ملک میں۔ یہ منحصر ہے کہ آپ محنت کتنی کرتے ہیں۔ جب انیس سو سینتالیس میں پاکستان بنا تو میرے والد صاحب نے اس راولپنڈی شہر میں ریڑھی لگائی۔ اب اس ملک میں مڈل کلاس نے بھی ترقی کی ہے۔ عام آدمی کبھی بھی مطمئن نہیں ہوا ساٹھ سالوں میں آج تک، کیونکہ جب وہ اردگرد ترقی دیکھتا ہے تو اس میں نفرت بڑھتی ہے۔ آفتاب یہ دیکھیں، اس قصبے میں کتنی موٹرسائیکلیں گئی ہیں۔ آپ دیکھیں کہ میرے محلے میں آج کتنی گاڑیاں کھڑی ہیں۔
پاکستان اور فوج کی خراب شادی |
شیخ رشید احمد: آپ پرویز مشرف کو ویسے ہی لے آئے ہیں، اس تک تو ہم نہیں گئے۔
آفتاب گل: لانا ضروری ہے نہ جی۔
شیخ رشید احمد: میرا خیال ہے ساٹھ سال میں ان کے صرف سات سال ہیں۔
آفتاب گل: یہ آپ نے کہا جی ان کے صرف سات سال ہیں۔ پچھلے سات سال کے دوران پاکستان میں تاریخ بڑی تیزی سے ایکسیلیریٹ کر گئی (بڑی تیزی سے آگے بڑھی ہے)، اس لیے جنرل مشرف کے جو سات سال ہیں وہ آپ سات سال نہ لیں، اس کو اس طرح مت لیجیے، ٹائم میں مت لیجیے۔ (اس لیے جنرل مشرف کے سات سال کو آپ وقت کے اعتبار سے سات سال نہ لیں) میں جو بات کہنے چلا، چونکہ مجھے تو یہ کہا گیا تھا کہ پاکستان)۔ آپ ایک بات یاد رکھیں کہ پاکستان اور فوج دونوں اکٹھا نہیں چل سکتے۔ یہ ایک خراب شادی کی طرح ہے۔ آپ جانتے ہیں جس طرح فیسٹر کرتی ہیں (خراب ہونے لگتی ہیں) شادیاں، یہ اس طرح چلتا رہے گا۔ پھر دیکھیں یہ ترقی کی بات کرتے رہے ہیں۔ ایک دن انہوں نے کہہ دیا کہ جی ہر آدمی کے پاس موبائل فون ہے، ترقی ہو گئی۔ دوسری بات یہ دیکھیے کہ جنرل صاحب نے یہ کہا کہ یہ ڈی ایچ اے (ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹیز) وغیرہ اگر بنتی ہیں تو ترقی ہوتی ہے۔ آپ اصل بات بتائیں کہ جہاں جہاں سے سڑکیں نکلنی ہوتی ہیں، جہاں جہاں ڈویلپمنٹ ہونی ہوتی ہے، وہاں وہاں آپ جگہ ایکوائر (حاصل) کر لیتے ہیں۔
شیخ رشید احمد: نائن الیون کے بعد اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ صدر مشرف بوہڑ بازار میں آ جائیں گے یا صدر بش کے ساتھ کانوائے جس طرح چلتا ہے۔ امریکہ کے تین چار ٹورز (دوروں) میں، میں ساتھ رہا ہوں، پریذیڈنٹ صاحب کے، جو وہاں ماحول ہے، وہاں تو سڑکیں مین ہائی وے بند ہوتا ہے۔
وسعت اللہ: اچھا حال کی جو دہلیز ہے، اس پر کھڑے ہو کر ہم مستقبل کا کسی حد تک اندازہ لگانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ اگلے ساٹھ سال میں فوج سیاست سے الگ ہوتی نظر آ رہی ہے یا اسی طرح چلتا رہے گا؟
شیخ رشید احمد: فوج میں یہ سوچ نہیں ہے کہ وہ مسلط ہونا چاہتے ہے۔
وسعت اللہ: مستقبل میں، ساٹھ سال میں کتنے ٹیک اوور ہوں گے یا ایک بھی نہیں ہوگا؟
شیخ رشید احمد: میں تو، میرا تو آرمی سے تعلق نہیں ہے اور نہ میں کوئی نجومی ہوں۔ میری پچپن سال عمر ہے، ضروری تو نہیں ساری عمر اسی صورت میں رہوں میں۔
وسعت اللہ: جی بتائیے آفتاب گل صاحب؟
وسعت اللہ: آپ کو (فوج) جاتی ہوئی نظر آ رہی ہے؟
آفتاب گل: مجھے بالکل جاتی نظر نہیں آ رہی، اس لیے کہ پاکستان کی سوچ میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔ اگر ہندوستان کو کنفرنٹ (محاذ آرائی) کریں گے (تو) پاکستان میں جمہوریت، کسی قسم کی سول سوسائٹی ڈویلپ (پیدا) ہو ہی نہیں سکتی۔
وسعت اللہ: (رحمان خالد سے) آپ کو جاتی نظر آ رہی ہے؟
خالد رحمان: دیکھیے، میرے خیال سے تو حالات جس طرح سے آگے بڑھ رہے ہیں، اس میں فوج کے کردار کو عوام میں مقبولیت تو حاصل کسی طرح بھی نہیں ہوگی اور غالباً فوج کی قیادت کے لیے یہ وقت ہے کہ وہ اس بات کو سمجھ جائے کہ عالمی حالات کا سہارا لے کر اور ’وار آن ٹیررازم‘ اور اس طرح کے عنوانات کا سہارا لے کر وہ اپنے لیے جواز مہیا کرے۔ اس کے نتیجے میں جو کچھ سات سال میں ہوا ہے، ابھی تازہ ترین سات سال میں وہ بڑا واضح ہے کہ فوج اور عوام میں دوری ہو رہی ہے۔ میرا خیال یہ ہے کہ یہ ریلائزیشن (محسوس کرنے) کا عمل ایک سطح پر شروع ہوگیا ہے اور یہی سب سے بڑا چیلنج ہوگا پاکستانی عوام اور پاکستان کی سیاستی قیادت کے لیے بھی کہ وہ اس ریلائزیشن کو آگے بڑھائے۔