Monday, 20 August, 2007, 07:27 GMT 12:27 PST
احمد رضا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
سندھ ہائی کورٹ میں پیر کو بارہ مئی کے واقعات کے خلاف آئینی درخواستوں کی سماعت کے موقع پر نجی ٹی وی چینلزنے تشدد کے مناظر کی ویڈیو پیش کردی ہیں جبکہ عدالت نے وفاقی اور صوبائی حکومت کو ایک ہفتے کے اندر جواب داخل کرنے کا حکم دیا ہے۔
جن نجی چینلز نے تشدد کے مناظر کی ویڈیوز پیش کیں ان میں سندھ ٹی وی، کے ٹی این اور جیو ٹی وی شام ہیں۔
پیر کو جب سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس سرمد جلال عثمانی کی سربراہی میں قائم سات رکنی بینچ نے درخواستوں کی سماعت شروع کی تو سندھ ٹی وی، کے ٹی این اور جیو ٹی وی کی جانب سے 12 مئی کو چیف جسٹس کی آمد کے موقع پر کراچی میں ہونے والے خون خرابے کے مناظر کی ویڈیو سی ڈیز پیش کی گئیں جبکہ آج ٹی وی اور اے آر وائے ٹی وی چینلز کی جانب سے ویڈیو پیش نہیں کی گئی جس پر عدالت نے دونوں ٹی وی چینلز کو دوبارہ نوٹس جاری کیے ہیں۔
عدالت نے ان درخواستوں کی سماعت کے سلسلے میں دو عدالتی معاون مقرر کر رکھے ہیں جنہوں نے حکام سے جواب طلبی کے لئے ایک تفصیلی سوالنامہ تیار کیا تھا۔ عدالت نے گزشتہ سماعت پر وفاقی اور صوبائی حکومت کو نوٹس جاری کرکے ان سوالات کا تفصیلی جواب داخل کرنے کا حکم دیا تھا۔
تاہم حکومت سندھ کے وکیل راجہ قریشی نے جواب داخل کرنے کے لئے تین ہفتے کی مہلت مانگی جسے عدالت نے مسترد کردیا۔
![]() | |
| آج ٹی وی اور اے آر وائے ٹی وی چینلز کی جانب سے ویڈیو پیش نہیں کی گئی |
سندھ بار کونسل کے اراکین نے بی بی سی اردو سروس پر نشر ہونے والے وزیر اعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم کے اس انٹرویو کو تحریری شکل میں پیش کیا جس پر انہوں نے وزیر اعلی کے خلاف توہین عدالت کی درخواست داخل کر رکھی ہے۔ وزیر اعلی سندھ کے وکیل وسیم سجاد عدالت میں پیش نہیں ہوئے عدالت کو بتایا گیا کہ وہ سینٹ کے اجلاس میں شریک ہیں۔ اس پر جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہا کہ آئندہ سماعت پر کوئی معذرت قبول نہیں کی جائے گی۔
انسانی حقوق کمیشن بھی فریق |
عدالت نے اٹارنی جنرل آف پاکستان، ایڈووکیٹ جنرل سندھ، وزیر اعلی سندھ، شپنگ اور پورٹس کے وفاقی وزیر بابر غوری، وزیر اعلی سندھ کے مشیر برائے داخلہ امور وسیم اختر، چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ اور داخلہ کے وفاقی اور صوبائی سیکریٹریوں کو دوبارہ نوٹس جاری کرتے ہوئے ایک ہفتے کے اندر جواب داخل کرنے کا حکم دیا اور سماعت 27 اگست تک ملتوی کردی۔