http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 18 August, 2007, 18:12 GMT 23:12 PST

دلاور خان وزیر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام ڈیرہ اسماعیل خان

بنوں، وزیرستان میں خود کش حملے

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان اور بنوں میں سکیورٹی فورسز کی مختلف چوکیوں پر خود کش حملوں میں کم از کم ایک پولیس اہلکار سمیت چار افراد ہلاک اور کئی زخمی ہو گئے ہیں۔

پہلے واقعے میں وزیر ستان میں ایک چوکی پر خودکش حملہ ہوا ہے جس کے نتیجہ میں خودکش حملہ آورسمیت دو افراد ہلاک جبکہ دو زخمی ہوگئے ہیں جبکہ بنوں میں بھی ایک پولیس چوکی پر حملے کے نتیجہ میں ایک پولیس اہلکار ہلاک اور چار زخمی ہوگئے ہیں۔

پہلے واقعہ کی تفصیل بتاتے ہوئے شمالی وزیرستان کی پولیٹکل انتظامیہ نے کہا ہے کہ سنیچر کو شام پانچ بجے کے قریب تحصیل میرعلی کے علاقے میں سکیورٹی فورسز کی ایک چوکی سے ایک خودکش حملہ نے گاڑی ٹکرادی۔ دہماکے کے نتیجہ میں سکیورٹی فورسز کا ایک اہلکار ہلاک جبکہ دو زخمی ہوئے ہیں۔ زحمیوں کو میرانشاہ آرمی ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

حکام کے مطابق اس کے بعد فوج نے جوابی کارروائی کی جس کے نتیجہ میں مشکوک افراد کے جانی نقصان ہوا ہے لیکن فوری طور پر اس کی تفصیل معلوم نہ ہوسکی۔

میرعلی میں ہی سپین وام سکاؤٹس قلعہ پر آٹھ راکٹ بھی داغے گئے ہیں تاہم اس واقعہ میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

ایک اور واقعہ میں بنوں میں سنیچر کے شام نو بجے کے قریب نامعلوم افراد نے شہر سے آٹھ کلومیٹر جنوب میں پولیس پر حملہ کیا جس کے نتیجہ میں ایک پولیس اہلکار عبداللہ ہلاک جبکہ چار زحمی ہوگئے ہیں۔ پولیس کے ایک افسر ناظیف نے بی بی سی کو بتایا کہ زخمیوں کو بنوں ہسپتال میں داخل کردیاگیا جبکہ حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پولیس نے تلاش شروع کر دی ہے لیکن ابھی تک کسی قسم کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

اس کے علاوہ ڈی آئی جی پولیس حمزہ مسعود کے مطابق بنوں میں ایک پولیس چوکی کی طرف بڑھتے ہوئے ایک مشتبہ خود کش حملہ آوور کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔
یاد رہے کہ بنوں ٹانک ڈیرہ اسماعیل خان میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں۔اور گزشتہ کئی مہینوں سے پولیس چوکی حملوں کا سلسلہ بدستور جاری ہیں۔