عبادالحق
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
سابق وزیر اعظم نواز شریف کے وکیل اور سابق ایڈوو کیٹ جنرل پنجاب اشتراوصاف علی کا کہنا ہے کہ شریف خاندان کے خلاف بارہ اکتوبر ننانوے کے بعد قائم کیےگئے جن مقدمات میں ان کو سزا ہوئی تھی اس سزا کو صدر مملکت نے چیف ایگزیکٹیو کے حکم پر معاف کردیا تھا۔
واضح رہے کہ راولپنڈی کی ایک احتساب عدالت نے نواز شریف اور ان کے خاندان کے بعض ارکان کے خلاف قومی احتساب بیورو کی طرف سے دائر کیے جانے والے تین ریفرنسوں پر کارروائی از سرِ نو شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اشتر اوصاف علی نے بتایا کہ نواز شریف کو طیارہ سازش کیس اور ہیلی کاپٹر ریفرنس میں سزا ہوئی تھی جس کو اس وقت کے صدر مملکت رفیق تارڑ نے چیف ایگزیکٹیو جنرل پرویز مشرف کےکہنے پر معاف کردیا تھا، تاہم جرمانہ کی حد سزا برقرار ہے۔ ان کے بقول جب ایک مرتبہ سزا کو معاف کردیا جائے تواسے کسی طور بھی بحال نہیں کیا جاسکتا ہے۔
![]() | |
| نصرت شہباز شریف |
ان کا کہنا ہے کہ نواز شریف اور ان کے بھائی جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں تھے اور عدالت کےحکم بغیر ان کی رہائی ممکن نہیں ہے ۔
اشتر اوصاف علی کے بقول نواز شریف اور ان کے بھائی کی رہائی اس وقت تک ممکن نہیں تھی جب تک یہ ریفرنس واپس نہ لےلیے جاتے۔
انہوں نے کہا کہ نیب آرڈیننس کے تحت جب ایک مرتبہ ریفرنس واپس لے لیا جائے تو نہ تو اسے دوبارہ دائر کیا جاسکتا ہے اور نہ اس کو ری اوپن کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ احتساب عدالت کی طرف سے شریف خاندان کے خلاف ریفرنس کو ری اوپن کرنے کے فیصلے کا جائزہ لیا جائے اور مشاورت کے بعد قانونی چارہ جوئی کے حوالے سے لائحہ عمل ترتیب دیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس معاملہ میں سپریم کورٹ یا متعلقہ ہائی کورٹ سے داد رسی کے لیے رجوع کیا جاسکتا ہے۔ ان کے بقول سپریم کورٹ خود بھی احتساب عدالت کی طرف سے ریفرنس ری اوپن کرنے کے معاملہ کا نوٹس لے کر کارروائی کرسکتی ہے کیونکہ احتساب عدالت کا فیصلہ سپریم کورٹ کے روبرو زیر سماعت کیس پر اثر اندازہونے کے مترادف ہے ۔
از خود نوٹس |
ان کا کہنا تھا کہ نیب کی درخواست پر احتساب عدالت کا فیصلہ اس بات کوظاہر کرتا ہے کہ حکومت کو یقین ہوگیا ہے کہ ان کے پاس نوازشریف کو واپسی سے روکنے کا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے اور حکمرانوں کی آئینی، قانونی، اخلاقی، سماجی اور سیاسی طور پر شکست ہوئی ہے۔
سابق وزیر قانون ایس ایم مسعود نےاحتساب عدالت کے فیصلہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایک ریفرنس داخل دفتر کردیا جائے تو اسے ٹھوس اور نئے شواہد کے بغیر ری اوپن نہیں کیا جاسکتا ہے اور یہ بتانا ضروری ہے کہ آٹھ برس بعد اس ر یفرنس کو کیوں ری اوپن کیا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق احتساب عدالت کے فیصلہ کے بارے میں نواز شریف کی درخواست کی سماعت کے دوران نشاندہی کی جائے تو سپریم کورٹ اس اقدام پر کارروائی کرسکتی ہے۔
ماہرقانون منظور ملک کا کہنا ہے کہ احتساب عدالت صرف ملزم کی موجودگی میں ریفرنس پر کارروائی کرسکتی ہے اور نیب کی یہ درخواست دینے سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ نیب یہ چاہتی ہے نواز شریف عدالت میں پیش ہوں۔
ان کے بقول جب ملزم جوڈیشل ریمانڈ پر ہوتا ہے تو اس کی رہائی کے لئے عدالت کی اجازت درکار ہوتی ہے، اب یہ معلوم نہیں ہے کہ نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دیتے وقت یہ اجازت لی گئی تھی یا نہیں۔
ان کے کہنا ہے کہ احتساب عدالت کے فیصلہ کو ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ دونوں میں سے کسی ایک عدالت میں چیلنج کیا جاسکتا ہے جبکہ نواز شریف اس ریفرنس کے ری اوپن ہونےاور اپنی گرفتاری کے خدشے کے پیش نظر عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری کے لیے رجوع کر سکتے ہیں اور عدالت ان کی حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے ان کو گرفتار نہ کرنے کا حکم دے سکتی ہے۔