Friday, 17 August, 2007, 13:02 GMT 18:02 PST
ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان میں اکتوبر سن دو ہزار پانچ میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے بعد بحالی کے کاموں کے لیے قائم کیے گئے ادارے ایرا نے قیام کے بعد سے باسٹھ ملین سے زائد کی رقم صرف ملازمین کی تنخواہوں، الاؤنسز اور ٹی اے/ڈی اے پر خرچ کی ہے۔
یہ بات آج قومی اسمبلی میں بیگم شمشاد دستار بچانی کے ایک سوال پر وزیر انچارج برائے وزیر اعظم سیکرٹریٹ نے تحریری جواب میں بتایا۔ سوال میں دریافت کیا گیا تھا کہ ایرا اکتوبر دو ہزار پانچ سے اب تک اپنے ملازمین کی تنخواہوں اور دیگر مد میں کتنی رقم خرچ کر چکا ہے۔
وزیر انچارج برائے وزیر اعظم سیکرٹریٹ نے بتایا کہ دو ہزار پانچ سے اس برس اکتیس جولائی تک تنخواہوں و الاؤنسز کی مد میں پانچ کروڑ تراسی لاکھ سے زائد رقم جبکہ ٹی اے/ڈی اے کے لیے سینتیس لاکھ روپے خرچ کیئے گئے۔ اس طرح مجموعی رقم باسٹھ ملین سے زائد بنتی ہے۔
سوال کے دوسرے حصے میں خاطر تواضع اور سٹیشنری کی مد میں اخراجات کے بارے میں بھی پوچھا گیا تھا۔ اس کے جواب میں حکومت کا کہنا تھا کہ تواضع کی مد میں دس لاکھ سے زائد جبکہ سٹیشنری کے لیے چونتیس لاکھ روپے خرچ کیے گئے۔
زلزلے کے بعد اس ادارے اور غیرسرکاری امدادی تنظیموں پر الزام لگتا رہا ہے کہ وہ متاثرین کی مدد کی بجائے بھاری رقوم اپنے اوپر خرچ کر رہی ہیں۔ یہ تنظیمیں تاہم اس الزام سے انکار کرتی رہی ہیں۔