http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 16 August, 2007, 11:41 GMT 16:41 PST

نثار کھوکھر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سکھر

جی ایم سید کی تصویر خارج

سندھ حکومت کی جانب سے چوتھی جماعت کے مضمون ’سماجیات‘ کی نئی درسی کتاب سے قوم پرست رہنما جی ایم سید کی تصویر خارج کردی گئی ہے۔

جی ایم سید کی تصویر اور نام پاکستان کی کسی درسی کتاب میں چند ماہ قبل پہلی مرتبہ اس وقت شامل کیا گیا تھا جب ان کے سیاسی رفیق اور سابق وزیراعلیٰ سندھ ایوب کھوڑو کی بیٹی ڈاکٹر حمیدہ کھوڑو سندھ کی وزیر تعلیم بنیں۔

چوتھی جماعت کی ’سماجیات‘ کی پرانی کتاب میں ایک سبق’تعمیر پاکستان میں سندھ کا حصہ‘ کے عنوان سے تھا جس میں قائداعظم محمد علی جناح، عبداللہ ہارون، مولانا دین محمد وفائی، جی ایم سید، ایوب کھوڑو، نصرت ہارون اور دیگر افراد کی تصاویر اور نام شائع کیے گئے تھے۔

سندھ میں اگست سے نیا تعلیمی سال شروع ہوا ہے اور تاخیر سے ملنے والی درسی کتاب میں اب جی ایم سید کی تصویر خارج کردی گئی ہے۔ پرانے رنگین صفحے کی جگہ اب نیا بلیک اینڈ وائیٹ صفحہ چسپاں کیا گیا ہے ۔

سندھ کے سیکریٹری تعلیم سبھاگو خان جتوئی نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کتاب سے جی ایم سید کی تصویر ہٹائے جانے کو ٹیکنیکل غلطی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے انہیں درسی کتاب سے ایسی کسی تصویر کو ہٹانے کی ہدایات نہیں ملیں تھیں۔انہوں نے کہا کہ بی بی سی کی نشاندہی کے بعد وہ اس معاملے کی تحقیقات کروائیں گے۔

جی ایم سید کی جماعت اب کئی گروہوں میں بٹ گئی ہے۔ ان کا خاندان اس جماعت کا حصہ نہیں رہا۔ جی ایم سید کے پوتے جلال محمود شاہ کا کہنا تھا کہ نصاب میں جی ایم سید کا نام شامل یا خارج کرنے سے ان کے دادا کی سیاسی حیثیت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ بی بی سی سے فون پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے خاندان نے حکومت سے ایسی کوئی گزارش نہیں کی تھی کہ ان کے دادا کا نام نصاب میں شامل کیا جائے۔

جلال شاہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی پہچان اور نظریاتی خلفشار سے دو چار ہے اس لیے حکمران اب تک یہ طےنہیں کر پائے کہ پاکستان کی تعمیر میں کس کا کتنا حصہ ہے۔