Wednesday, 15 August, 2007, 14:26 GMT 19:26 PST
شہزاد ملک
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
راولپنڈی کی ایک احتساب عدالت نے بدھ کو سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے خلاف تین زیر التوا کیسوں کی سماعت دوبارہ شروع کرنے کے حوالے سے قومی احتساب بیورو کی طرف سے دائر کی جانے والی درخواست کی سماعت سترہ اگست تک ملتوی کر دی ہے۔
نیب کے ڈپٹی پراسکیوٹر جنرل ذوالفقار بھٹہ راولپنڈی کی احتساب عدالت نمبر چار کے جج خالد محمود کی عدالت میں پیش ہوئے اور انہوں نے عدالت میں درخواست دائر کی کہ نواز شریف کے خلاف درج تین مقدمات کی سماعت دوبارہ شروع کی جائے۔
واضح رہے کہ سنہ دو ہزار میں درج کیے جانے والے یہ مقدمات حدیبیہ پیپرز ملز، اتفاق فونڈریز اور رائے ونڈ میں غیر قانونی اثاثہ جات بنانے کے حوالے سے قائم کیے گئے تھے۔
احتساب عدالت نے بارہ اپریل سنہ دو ہزار ایک کو نیب کی طرف سے درخواست پر ان مقدمات کی سماعت غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کر دی تھی۔
نیب کے ڈپٹی پراسکیوٹر جنرل ذوالفقار بھٹہ نے دو اگست کو عدالت میں ایک درخواست دی تھی جس میں ان زیر التوا مقدمات کی سماعت کو دوبارہ شروع کرنے کے بارے میں کہا گیا تھا۔
نیب کے ڈپٹی پراسکیوٹر جنرل نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے اس درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ان مقدمات کی سماعت عارضی طور پر روکنے کی درخواست دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ان مقدمات کی سماعت دوبارہ شروع کرنے کے لیے کسی بھی وقت درخواست دی جا سکتی ہے۔
مبصرین کے مطابق حکومت نے نواز شریف کے خلاف احتساب کورٹ میں اس وقت درخواست دی ہے جب سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف نے وطن واپسی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے تاکہ سپریم کورٹ سے انہیں ریلیف ملنے کی صورت میں ان کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی جا سکیں۔
واضح رہے کہ نواز شریف اور شہباز شریف کی وطن واپسی کے متعلق ایک جیسی درخواستوں کی سماعت جمعرات کو سپریم کورٹ میں ہو رہی ہے۔