http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 14 August, 2007, 23:30 GMT 04:30 PST

ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام اسلام آباد

جنوبی وزیرستان حکومت کے لیے بڑا چیلنج

وزیرستان میں جنگی صورتحال تشویشناک ضرور ہے لیکن یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ پانچ سال سے لڑائی کا جو سلسلہ جاری ہے وہ جنوبی اور شمالی وزیرستان کے کئی چکر مکمل کر چکا ہے۔

لیکن اب حالات ایسے دکھائی دے رہے ہیں کہ صورتحال شمالی اور جنوبی وزیرستان دونوں ہی جگہ بیک وقت د خراب ہو رہی ہے۔ پانچ سالہ شورش میں پہلی مرتبہ ایسا ہو رہا ہے۔

شمالی وزیرستان میں تو مقامی طالبان بظاہر ایک قیادت کے تحت حکومت سے گزشتہ ستمبر کا معاہدہ توڑنے کے بعد دوبارہ لڑ رہے ہیں لیکن جنوبی وزیرستان میں بھی حالات وقت کے ساتھ ساتھ دوبارہ ابتری کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

وسیع رقبے کی طرح شمالی وزیرستان کی نسبت جنوبی وزیرستان میں حکومت کے لیے بظاہر چیلنجز بھی زیادہ ہیں۔ تاہم زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ ان میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔

شدت پسندوں کے نئے نئے گروپ سامنے آ رہے ہیں جبکہ ساتھ ساتھ تقسیم بھی ہو رہے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک سے علیحدہ علیحدہ نمٹنے میں حکومت کو یقیناً زیادہ دقت پیش آئے گی اور زیادہ طاقت صرف کرنا پڑے گی۔

جنوبی وزیرستان دو بڑے قبیلوں میں تقسیم ہے۔ احمدزئی وزیر صدر مقام وانا اور اس کے مغربی علاقوں میں ہیں جبکہ محسود مشرقی علاقوں میں آباد ہیں۔

عبداللہ محسود کی گزشتہ دنوں بلوچستان کے شمالی شہر ژوب میں ہلاکت سے حکومت کو ایک کامیابی تو ضرور ہوئی لیکن یہ کوئی اتنی بڑی کامیابی قرار نہیں دی جاتی۔

عبداللہ کافی عرصے سے خاموشی اختیار کیے ہوئے تھے اور حکومت مخالف کارروائیوں سے بظاہر کنارہ کش تھے۔

تاہم ان کی ہلاکت کے بعد ایک شخص نے اپنے آپ کو عبداللہ کا چچا زاد بھائی قرار دیتے ہوئے حکومت پر حملوں کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔ اس اعلان سےحکومت اور عام لوگوں کی تشویش میں اضافہ ہوا ہوگا۔

عبداللہ کے چچا زاد بھائی کا بیان اس بات کا واضع ثبوت ہے کہ علاقے میں فوجی کارروائیوں سے شدت پسندی میں اضافہ ہو رہا ہے کمی نہیں۔ ایک قبائلی اگر کسی بھی طرح سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں ہلاک ہوتا ہے تو اس کے خاندان کا ہر مرد بندوق اٹھا کر بدلہ لینے نکل پڑتا ہے۔

اسی خطرناک صورتِ حال کو وجہ بتا کر حکومت نے شمالی وزیرستان میں امن معاہدہ کیا تھا۔

علاقے میں ایک گروپ قاری حسین کا بھی بتایا جاتا ہے اور شک کیا جا رہا ہے کہ شاید سولہ اغوا شدہ فوجی بھی انہیں کی تحویل میں ہیں۔ تاہم اس کی تصدیق اس گروپ نے ابھی تک نہیں کی ہے۔

حکومت سکاؤٹس کے باقی ماندہ پندرہ جوانوں کی رہائی کے لیے کوششیں کر رہی ہے تاہم یہ ابھی تک مفید ثابت نہیں ہوسکی ہیں۔ جرگے اور محسود قوم کو تین روز کی مہلت سے بھی مسئلہ حل نہیں ہوا ہے۔

علاقے میں سب سے بڑا گروپ بیت اللہ کا ہے۔ حکومت ملک میں ہونے والے دہشتگردی کے مختلف واقعات میں سے اکثر کی ذمہ داری انہیں پر ڈالتی رہی ہے لیکن وہ اب تک اپنے آپ کو قدرے پس منظر میں رکھے ہوئے ہیں۔

حالیہ کشیدگی صرف محسود گروپوں اور حکومت تک محدود نہیں بلکہ محسود اور احمدزئی وزیر قبائل میں بھی پائی جاتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق پیر کو وزیر قبائل نے عبداللہ محسود کے ساتھیوں کے سکیورٹی فورسز پر حملے میں حکومت کا ساتھ دیا۔

عبداللہ کے چچا زاد بھائی کے بقول ان کے تین ساتھیوں کی ہلاکت سکیورٹی فورسز کی نہیں بلکہ مبینہ طور پرملا نذیر کے لوگوں کی گولیوں سے ہوئی۔

احمد زئی وزیر اور محسود قبائل کے درمیان تناؤ اکثر رہا ہے لیکن جب لڑائی کی نوبت آتی ہے تو پھر حالات پر قابو پانا مشکل ہوجاتا ہے۔ احمدزئی وزیر قبائل کی اکثریت اس وقت ملا نذیر کی قیادت میں حکومت کا ساتھ دینے پر متفق ہے۔

مبصرین کے خیال میں اگر جنوبی وزیرستان میں حالات بگڑتے ہیں تو حکومت کے لیے ان سے نمٹنا شمالی وزیرستان سے زیادہ مشکل ہوگا۔