http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 14 August, 2007, 09:06 GMT 14:06 PST

علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

آزادی کے ساٹھ سال، سکیورٹی میں جشن

برطانوی راج سے آزادی اور ایک نئے ملک کے قیام کی ساٹھویں سالگرہ پاکستان بھر میں انتہائی جوش و خروش سے منائی جا رہی ہے۔ کیلنڈر پر جونہی اگست کی چودہ تاریخ ہوئی تو دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک بھر میں کئی جگہوں پر زبردست آتشبازی کی گئی جس سے آسمان جگمگا اٹھا۔

لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے رہے۔ پاکستان اور ہندوستان آزادی کی ساٹھویں سالگرہ منا رہے ہیں۔ ہندوستان میں یوم آزادی پندرہ اگست کو منایا جاتا ہے۔

بلوچستان میں یومِ آزادی، احتجاج
ساٹھ سال بعد، عدم تحفظ کا خوف
پاکستان میں جشن آزادی
پاکستان، بھارت: ساٹھویں یوم آزادی کی تیاریاں
پاکستان میں جشن آزادی

سنہ انیس سو سینتالیس میں آزادی اور برصغیر کی تقسیم کے وقت ایک کروڑ لوگوں کو ہجرت کرنا پڑی تھی۔ انسانوں کی اتنی بڑی ہجرت کو بیسویں صدی کے بڑے انسانی المیوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔

پاکستانی عوام اپنا ساٹھواں یوم آزادی سیاسی عدم استحکام اور شدت پسندی کے بڑھتے ہوئے سایوں میں منا رہے ہیں۔

اس صورتحال میں یوم آزادی کے موقع پر دہشتگردی کے کسی ممکنہ خطرے کے پیش نظر سخت حفاظتی اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔ ملک کے تقریباً تمام بڑے شہروں کی سڑکوں، اہم مقامات اور سرکاری تقریبات پر پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دوسرے اداروں کے اہلکاروں کی غیر معمولی نفری تعینات نظر آ رہی ہے۔

یوم آزادی کی تقریبات سرکاری اور غیر سرکاری طور منائی جا رہی ہیں جبکہ بیشتر گھروں پر پاکستان سبز و سفید جھنڈا لہرا رہا ہے۔ یوم آزادی کی شام لوگ جشن منانے بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکلتے ہیں، لیکن اس مرتبہ حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ پرہجوم اور رش والی جگہوں پر جانے سے پرہیز کریں۔

پنجاب حکومت نے تو اس انتباہ پر مبنی ایک اشتہار بھی قومی اخبارات میں شائع کرایا ہے، جس میں حساس اداروں کی اطلاعات کو بنیاد بنا کر کہاگیا ہے کہ پنجاب کے شہروں راولپنڈی، چکوال، اٹک، جہلم اور لاہور میں خود کش حملوں کا خطرہ ہے۔

وفاقی وزارت داخلہ نے چودہ اگست پر دہشتگردی کے ممکنہ خطرے کے پیش نظر صوبائی حکومتوں کو پہلے ہی سے متنبہ کیا ہوا ہے اور اس حوالے سے خصوصی حفاظتی اقدامات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

یوم آزادی کے موقع پر پاکستان نے اپنی جیلوں میں قید ایک سو چونتیس بھارتیوں کو گزشتہ روز رہا کیا تھا۔ جبکہ توقع کی جا رہی ہے کہ بھارت بھی اس کے جواب میں سو سے زائد پاکستانی قیدیوں کو رہا کرے گا۔