Sunday, 12 August, 2007, 12:30 GMT 17:30 PST
عباس نقوی
کراچی
اقتصادی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ عالمی حصص بازاروں میں مندی کا اثر پاکستان کے بازارِ حصص میں دو روز پہلے ہی آچکا تھا اور امکان ہے کہ پیر سے شروع ہونے والا کاروباری ہفتے کے دوران نہ صرف عالمی بلکہ پاکستانی بازارِ حصص میں بھی ملے جُلے رحجان کا باعث رہے گا۔
کرچی سٹاک ایکسچنج کے سابق چیئرمین عارف حبیب نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جمعہ کو نیویارک سٹاک ایکسچنج گری ضرور مگر مارکیٹ بحالی کی حالت میں بند ہوئی جو اس بات کی نشاندہی ہے کہ پیر کو مارکیٹ ری کوّر ہو گی۔
سٹاک بروکریج ہاؤس انوائیزر سکیورٹیز کے ہیڈ آف ریسرچر آصف علی قریشی کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو برسوں سے پاکستان کی مارکیٹ عالمی بازارِحصص کا زیادہ اثر لے رہی ہے جس کی وجہ غیر ملکی سرمایہ کاری کا آنا ہے۔
آصف علی قریشی نے مزید کہا کہ امریکی مورگیج زون سے جاری ہونے والے بونڈز کے بڑی تعداد میں ڈیفالٹ ہونے کی بنا پر پاکستان میں موجود غیر ملکی سرمایہ کاروں کا رحجان فروخت کی طرف بڑھا جس کا اثر ہماری مارکیٹ پر بھی ظاہر ہوا۔ اُن کا کہنا تھا کہ اسی دوران ملک میں ایمرجنسی کی افواہوں نے بھی گردش کی جو مارکیٹ کی صورتحال پر مزید اثر انداز ہوئی۔
حالات میں بہتری کے اقدام |
عقیل کریم ڈیڈی کا کہنا تھا کہ عالمی مالیاتی صورتحال اسی تناظر میں پیدا ہوئی۔ انُ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ایسی کوئی کمپنی نہیں ہے تاہم بالواسطہ ایسی کسی کمپنی کی پاکستان میں سرمایہ کاری ہو سکتی ہے اور ممکن ہے کہ اُس کمپنی نے اپنا سرمایہ نکال لیا ہو۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’میں نہیں سمجھتا کہ ہماری مارکیٹ پر گلوبل مارکیٹ کا اس حد تک اثر ہو، ہماری مارکیٹ کافی اوپر گئی اور گزشتہ برس تقریباً سوا ملین کا آؤٹ فلو دیکھا گیا‘۔ عقیل کریم ڈیڈی کا کہنا تھا کہ ہمارے بازارِ حصص کا حال برا نہیں نظر آرہا ہے۔
جمعہ کو نیویارک میں ڈاؤ جونز شیئر انڈکس حصص کی خرید و فروخت کا آغاز ہوتے ہی تقریباً ایک سو پچیس پوائنٹ نیچے چلی گئی جبکہ لندن کی FTSE شیئر انڈکس 3.7 فیصد، پیرس کی Cac شیئر انڈکس 3.1 فیصد اور جرمنی کی Dax شیئر انڈکس 1.5 فیصد تک گر گئی۔
عالمی حصص بازاروں میں دو دن کی شدید مندی کے بعد بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے حالات میں بہتری لانے کے اقدام کرنے کا اعلان کیا تھا۔