Saturday, 11 August, 2007, 19:19 GMT 00:19 PST
پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن بے نظیر بھٹو نے کہا ہے کہ ان کی وطن واپسی اور صدر جنرل پرویز مشرف کی وردی کے بارے میں ان کے اور جنرل مشرف کے درمیان ’خفیہ مفاہمت‘ ہے۔
نیویارک میں برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے اکتوبر کے وسط تک پاکستان واپس جانے کےبارے میں سوچ رہی ہیں۔
صدر مشرف کے ساتھ اپنی ’ڈیل‘ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس کا انحصار صدر مشرف کی طرف سے اعتماد سازی کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے پر ہے جن میں تیسری مرتبہ وزیر اعظم کا انتخاب لڑنے پر قانونی پابندی کو ختم کرنا بھی شامل ہے۔
بے نظیر بھٹو نے کہا کہ وہ جلد از جلد پاکستان واپس جانا چاہتی ہیں لیکن صدر مشرف اب تک ان کی وطن واپسی کے حق میں نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صدر مشرف ان کی وطن واپسی کے مخالف نہیں بلکہ انہیں واپسی کے وقت پر اختلاف ہے۔
وردی کا معاملہ |
انہوں نے کہا کہ ’اگر میرے پاس آلہ دین کا چراغ ہوتا میں اکتوبر میں عید سے پہلے وطن واپس پہنچ جاتی۔‘
ابوظہبی میں صدر مشرف سے اپنی ملاقات کی تصدیق اور ترید کئے بغیر انہوں نے کہا کہ ’صدر مشرف سے ہمارے مذاکرات طویل عرصے سے چل رہے ہیں۔ ہم نے وردی کے معاملے پر بھی بات کی ہے اور ہم خفیہ مفاہمت پر پہنچ گئے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ وطن واپسی پر بھی ان کی صدر مشرف سے مفاہمت ہو گئی ہے۔
انہوں نےکہا صدر اور وزیر اعظم کے درمیان اختیارات کے توازن پر بھی بات چیت ہوئی ہے لیکن اس میں مزید بات چیت کی ضرورت ہے۔
بے نظیر نے کہا کہ انتخابی اصلاحات کے بارے میں بھی مذاکرات ہوئے ہیں اور ان کی جماعت صدر مشرف کی طرف سے ان پر عملدرآمد کی منتظر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر انتخابات میں دھاندلی کی گئی تو اس سے صدر مشرف کے ساتھ مفاہمت یا ڈیل ختم ہو جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ اس مفاہمت پر عملدرآمد کرنے کا پہلا قدم تیسری مرتبہ وزیر اعظم کا انتخاب لڑنے پر قانونی پابندی کوختم کیئے جانا قرار پایا تھا۔
بے نظیر بھٹو نے کہا کہ صدر مشرف کے موجودہ اسمبلیوں سے دوبارہ منتخب ہونے کے معاملے میں ان کے درمیان یہ طے پایا تھا کہ وہ اس پر اپنے اپنے موقف پر قائم رہیں گے کیونکہ یہ معاملہ آخر کار سپریم کورٹ میں طے پانا ہے۔
بے نظیر بھٹو نے مزید کہا کہ بہت سے معاملات پر ان کی صدر مشرف سے مفاہمت ہو گئی ہے اور بہت سے معاملات پر یہ طے پایا کہ وہ اپنے اپنے موقف پر قائم رہیں گے کیونکہ یہ معاملات تیسرے فریق نے طے کرنے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اصل میں اس ڈیل کا انحصار اعتماد سازی کے ان اقدامات پر ہے جو اس مہینے کے اختتام تک کیئے جانے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وقت بہت تیزی سے گزر رہا ہے اور اسی مہینے ان کی جماعت کے قریبی رفقا انتخابات کے بارے میں حکمت عملی طے کرنے کے لیے ایک ہنگامی ملاقات کے لیے نیویارک آ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تیسری مرتبہ وزیر اعظم بننے پر پابندی کو ختم اور اس بارے میں قانونی ترمیم اگست کے آخر تک ہی کی جانی چاہیے۔