Friday, 10 August, 2007, 01:48 GMT 06:48 PST
ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کے مرکزی بینک نے واضح کیا ہے کہ ایک ہزار روپے کی مالیت کے نوٹ پر طبع شدہ ہلال اور پانچ کونوں والا ستارہ صرف جدید ترین حفاظتی علامت ہے اور نوٹ پر موجود اس جدید حفاظتی علامت کے حامل ڈیزائن کی رنگت نوٹ کو مختلف زاویوں سے دیکھنے پر تبدیل ہوتی ہے۔
گزشتہ روز قومی اسمبلی کے سپیکر نے ایک ہزار کے کرنسی نوٹ پر پاکستان کے بجائے ترکی کے قومی پرچم کی چھپائی کے معاملے کی تحقیقات کی ہدایت جاری کی تھی۔
سٹیٹ بینک کے ایک اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ جدید حفاظتی علامت کرنسی کی جعل سازی کی روک تھام میں موثر کردار ادا کر رہی ہے اور اس حفاظتی علامت کی بدولت عوام بھاری مالیت کے اصل نوٹ با آسانی شناخت
کر سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ کرنسی نوٹ پر اس غلطی کی نشاندہی حکومتی رکن قومی اسمبلی رشید اکبر نے بدھ کو اجلاس کی کارروائی کے دوران کی تھی۔ خارجہ پالیسی پر جاری بحث کے دوران حکومتی رکن نے نکتہ اعتراض پر ایوان کی توجہ ایک ہزار کے نئے کرنسی نوٹ پر چھپے پرچم کی جانب دلواتے ہوئے کہا کہ اس کرنسی نوٹ کے سامنے والے حصے پر چھپے پرچم کا رنگ سرخ ہے جو کہ ترکی کا پرچم ہے اور یہ پاکستان کے سبز ہلالی پرچم سے کسی طور مشابہت نہیں رکھتا۔
خزانے کے وزیر مملکت عمر ایوب خان نے اس نکتہ اعتراض کے جواب میں کہا کہ وہ یہ معاملہ سٹیٹ بنک کے علم میں لائیں گے۔ سپیکر قومی اسمبلی چودھری امیر حسین نے اس موقع پر اپنی آبزرویشن دیتے ہوئے کہا:’ یہ بہت اہم معاملہ ہے اور وزیر موصوف حکومت کی نمائندگی کرتے ہیں اور سٹیٹ بنک حکومت کے قواعد کے تابع ہے لہذٰا اس معاملے کا صرف علم میں لانا کافی نہیں ہے‘۔
سپیکر نے کہا کہ وہ اسی سے متعلق ایک اور معاملے کو بھی وزیر خزانہ کے نوٹس میں لانا چاہتے ہیں اور وہ یہ کہ سٹیٹ بنک کی جانب سے کرنسی نوٹ پر پن لگانے پر پابندی کے باعث اب نوٹوں کی گڈی پر ایک ربڑ باندھا جاتا ہے جس کی وجہ سے بنک سے آنے والی نوٹوں کی گڈی سے ایک آدھ نوٹ کم ہونے کی شکایت عام ہوگئی ہے۔
عمر ایوب کا کہنا تھا کہ پرچم کے رنگ والا معاملہ حکومت کے علم میں پہلے سے ہے اور اس بارے میں سٹیٹ بنک سے استفسار کیا جا چکا ہے۔ حزب اختلاف کے رکن پرویز ملک نے وزیر خزانہ کے بیان پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ نوٹ کے ڈیزائن کی منظوری کابینہ اور پھر وزیراعظم نے دی تھی لہذٰا اس معاملے کا الزام صرف سٹیٹ بینک کو نہیں دیا جا سکتا۔
سپیکر نے کہاکہ معاملہ خاصہ پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے اس لیے بہتر یہی ہے کہ اس کی مکمل تحقیقات کروائی جائیں۔ عمر ایوب کی جانب سے مخالفت نہ کیے جانے پر سپیکر نے یہ معاملہ ایوان کی قائمہ کمیٹی کے سپرد کرتے ہوئے اسے مکمل تحقیقات کر کے ایک ماہ میں رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔