Friday, 10 August, 2007, 17:38 GMT 22:38 PST
عبدالحئی کاکڑ
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
صوبہ سرحد کے نیم قبائلی علاقے درہ آدم خیل میں مقامی طالبان اور دیگر مسلح گروپ کے درمیان ہونے والی جھڑپ اور چرگانو نامی گاؤں پر مقامی طالبان کے قبضے کے بعد علاقے میں صورتحال معمول پر آگئی ہے اور منتخب اراکین اسمبلی اور قبائلی جرگہ مسلح گروپ کے مرکز سےمقامی طالبان کا قبضہ ختم کرانے کی کوششیں کر رہا ہے۔
دو روز تک جاری رہنے والی لڑائی کے بعد مذکورہ مرکز پر مبینہ مسلح گروپ کا کنٹرول مقامی طالبان کے پاس جانے کے بعد درہ آدم خیل بازار اور سرکاری ادارے کھل چکے ہیں۔ جمعہ کو پہلی مرتبہ کوہاٹ سے سینیٹ کے رکن عبدالرازق کی دعوت پر پشاور کے صحافیوں نے درہ آدم خیل کا دورہ کیا۔ علاقے میں داخل ہوتے ہی جگہ جگہ ہلکے اور بھاری اسلحے سے لیس نقاب پوش مسلح افراد کھڑے ہوئے نظر آئے۔
پروگرام کے مطابق صحافیوں کو درہ آدم خیل کے چرگانو گاؤں جانا تھا جہاں پر مبینہ مسلح گروپ کے مقتول سربراہ امیر سید عرف ’چرگ‘ کا مرکز واقع ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اب مقامی طالبان کے زیر کنٹرول ہے تاہم کئی گھنٹوں کے انتظار کے بعد صحافیوں کو سکیورٹی کی خراب صورتحال کے پیش نظر وہاں نہیں لے جایا جا سکا۔ ایک موقع پر صورتحال اس وقت کشیدہ ہوگئی جب زرغون چیک پوسٹ کے اندر راکٹ لانچروں سے لیس دو نقاب پوش افراد داخل ہوئے جو فوٹوگرافروں کی طرف سے لی گئیں تصاویر پر برہم تھے۔
![]() | |
| جھڑپ کے دوران گولیوں کا نشانہ بننے والی ایک گاڑی |
انہوں نے کہا کہ چرگانو گاؤں میں جرائم پیشہ افراد کے مرکز سے بقول ان کے اصلاحی کمیٹی کے مسلح افراد کا قبضہ ختم کروانے کے لیے بات چیت جاری ہے اور انہیں جمعہ کی شب تک مرکز کا کنٹرول قبائلی عمائدین کے حوالے کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔
درہ آدم خیل کی چیک پوسٹ میں خاصہ دار فورس کے صرف چند اہلکار موجود تھے جن میں سے ایک نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ انہیں کوئی کارروائی نے کرنے کے احکام ہیں ان کے پاس اتنی نفری اور وسائل بھی نہیں ہیں کہ مسلح افراد کی سرگرمیوں پر قابو پا یا جا سکے۔
صحافیوں کی ملاقات چار ایسے افراد سے کرائی گئی جن کا دعویٰ تھا کہ انہیں ایک مسلح گروپ کے افراد نے تاوان کے بدلے اغواء کیا تھا اور ’طالبان‘ کے قبضے کے بعد ہی انہیں رہائی ملی ہے۔ان میں نور محمد، سیف اللہ، سید ضمیر اور قلم ضمیر شامل تھے اور چاروں کا تعلق درہ آدم خیل سے بتایا گیا۔
ایک ٹیکسی ڈرائیورسیف اللہ نے جس کے چہرے پر گھونسوں کے نشانات واضح نظر آ رہے تھے صحافیوں کو بتایا کہ ’مجھے درہ آدم خیل کے ایک نالے سے اغواء کیا گیا اور مجھے کئی دنوں تک آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر رکھا گیا۔ مجھے ایک تہہ خانے میں رکھا گیا اور چار دن تک کھانا نہیں دیا گیا جب کہ اس دوران مجھ پر تشدد بھی ہوتا رہا۔ جب پانچویں روز انہوں نے کھانا دیا تو اس وقت مبینہ طالبان نے حملہ کردیا جس کے نتیجے میں مجھے رہائی مل گئی‘۔
درہ آدم خیل بازار میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے بجائے کلاشنکوفوں اور راکٹ لانچروں سے لیس درجنوں مسلح افراد موٹر سائیکل پر اور پیدل گشت کرتے ہوئے نظر آئے۔ عام لوگ بظاہر مسلح افراد کی خوف کی وجہ سے کچھ کہنے سے احتراز کر رہے تھے۔ ایک بزرگ نے جرائم پیشہ افراد کے خلاف مقامی طالبان کے اقدامات کی حمایت کی۔ ان کے بقول ’اس مبینہ مسلح گروپ کی وجہ سے ہمارے علاقے میں بد امنی بڑھ گئی تھی اور ہم بدنامی کی وجہ سے کسی کو یہ نہیں بتا سکتے تھے کہ ہمارا تعلق درہ آدم خیل سے ہے‘۔
![]() | |
| درہ آدم خیل میں مسلح افراد کی گاڑیاں |
گزشتہ کچھ ماہ سے مقامی طالبان نے درہ آدم خیل میں جرائم پیشہ اور چرس افیون فروخت کرنے والے لوگوں کے خلاف متعدد بار کارروائیاں کی ہیں جس سے علاقے میں منشیات کا کاروبار ختم ہوگیا ہے۔ اس کے علاوہ اغواء اور دیگر جرائم میں ملوث گروہوں کو بھی طالبان کی طرف دھمکیاں ملی تھیں۔