http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 09 August, 2007, 18:17 GMT 23:17 PST

صدر بش کا منصفانہ انتخابات پر زور

پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ سے پیچھے ہٹنے کے بعد امریکی صدر جارج بش نے پاکستان میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات پر زور دیا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں ایمرجنسی کی خبروں سے غیر یقینی صورتحال کے چوبیس گھنٹے گزر جانے کے بعد صدر کے ترجمان میجر جنرل راشد قریشی نے جمعرات شام ان خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان میں کوئی صداقت نہیں۔

ممکنہ ایمرجنسی پر وزیرِ مملکت برائے اطلاعات کا بیان
ملک میں ایمرجنسی متضاد اشارے
’ایمرجنسی‘ کا ٹِکر
ممکنہ ایمرجنسی کی خبریں سرخیوں میں

وائٹ ہاؤس میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر بش نے کہا کہ:’ جہاں تک پاکستان کی اندرونی صورتحال کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں میرا خیال ہے کہ وہاں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد ہونا چاہیے۔ اور ہماری اُن (جنرل مشرف) سے اسی بارے میں بات ہوتی رہی ہے۔‘

امریکی صدر نے جنرل پرویز مشرف پر زور دیا کہ وہ بڑے مشتبہ دہشتگردوں کے بارے میں ملنے والی خفیہ اطلاعات کی روشنی میں کارروائی کریں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ جنرل پرویز مشرف القاعدہ کے ان افراد کے خلاف کارروائی کریں گے جن کے بارے میں امریکہ کہتا ہے کہ وہ اس علاقے میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ: ’ میں نے اُن (صدر مشرف) سے کہا ہے کہ اگر دہشت گردوں کے سرغنوں کے بارے میں ان کی ملک میں کوئی قابل عمل اطلاعات موجود ہیں تو امریکی لوگ توقع کریں گے ان معلومات کی روشنی میں تیز کارروائی کی جائے۔‘

صدر بش نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کے صدر شدت پسندوں اور انتہا پسندوں کے حوالے سے امریکہ کی فکرمندی کو سمجھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ:’ میں یہ سمجھتا ہوں پاکستان ایک خود مختار ملک ہے اور یہ بات امریکیوں کے لیے بھی سمجھنا ضروری ہے تاہم اس کے ساتھ ساتھ امریکی عوام کے لیے یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ پاکستانی صدر شدت پسندوں کے بارے میں اتنے ہی فکر مند ہیں جتنا میں یا امریکی عوام ہیں۔‘

ادھر پاکستان میں جمعرات کی شام ایمرجنسی کی خبروں کے حوالے سے صدارتی ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ افواہیں ایک نجی ٹی وی چینل پر چلنے والے خبروں سے پیدا ہوئیں۔

اس سے قبل ایک اعلیٰ حکومتی اہلکار نے بھی کہا کہ صدر مشرف سمجھتے ہیں کہ ایمرجنسی نافذ کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

ملک میں ہنگامی حالت نافذ کیے جانے کی افواہیں صدر جنرل مشرف کی طرف سے کابل میں ہونے والے امن جرگے میں آخری وقت پر شرکت نہ کرنے کے اعلان کے بعد سے گردش کر رہی تھیں۔

اطلاعات کے مطابق ایمرجنسی کی افواہوں کے بعد امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ کونڈولیزا رائس نے جمعرات کی صبح صدر جنرل پرویز مشرف سے فون پر دیر تک بات کی تھی۔