Wednesday, 08 August, 2007, 12:19 GMT 17:19 PST
نیئر شہزاد
اسلام آباد
ٹرانسپلانٹیشن سوسائٹی آف پاکستان نے انسانی اعضاء کی پیوند کاری کے مجوزہ بل پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر اس بل میں تبدیلیاں نہ کی گئیں تو پاکستان میں انسانی اعضاء کی خریدوفروخت مزید بڑھے گی۔
سندھ ہاؤس اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سوسائٹی کے عہدیداروں نے کہا ہے کہ اس ضمن میں سوسائٹی نے وزیرِ صحت اور دوسرے متعلقہ حکام کو اپنے خدشات سے آگاہ کر دیا ہے اور کہا ہے کہ اس بل میں ترامیم کر کے اس کو فوری طور پر نافذ کیا جائے۔
ٹرانسپلانٹیشن سوسائٹی آف پاکستان کے مطابق انسانی اعضاء کی پیوند کاری کے مجوزہ بل میں گردہ اور جسم کے دیگر اعضاء کا عطیہ دینے والوں کو معاوضہ دینے کو جائز قرار دیا گیا ہے جس سے گردہ خریدنے والوں کی حوصلہ افزائی ہوگی اور دنیا کے مختلف حصوں سے لوگ انسانی اعضاء خریدنے کے لیے پاکستان کا رخ کریں گے۔
مقررین کا کہنا تھا کہ گردہ عطیہ کرنے والے افراد کو معاوضے کی بجائے ہیلتھ انشورنس اور اعزازات دیے جانے چاہیئیں۔ سوسائٹی کے نومنتخب صدر ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی نے کہا کہ پاکستان دنیا میں انسانی اعضاء کی خریدو فروخت کا سب سے بڑا اور سستا مرکز ہے۔ انہوں نے کہا کہ گردہ دینے والوں کو ہیلتھ انشورنس دی جانی چاہیے۔
سوسائٹی کے عہدیداروں نے اس بات پر بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا کہ صدر پاکستان کی طرف سے اس بل پر دستخط کرنے کے باوجود وزارتِ صحت اس بل کو اپنی مرضی سے جاری کرےگی۔ انہوں نے کہا کہ صدر مملکت کی جانب سے اس بل پر دستخط ہونے کے بعد اس کو فوری طور پر نافذالعمل کر دیا جائے۔
ڈاکٹر ادیب رضوی کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایک مردہ انسان کے جسم کے مختلف اعضاء سے سترہ افراد کی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ نظام سعودی عرب سمیت دوسرے اسلامی ملکوں میں رائج ہے اور یہ غیر اسلامی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی میں دو ایسے واقعات ہوچکے ہیں جن میں مردہ افراد کی وصیت کے مطابق ان کے جسم کے مختلف حصے نکال کر ان کی زندہ انسانوں میں پیوند کاری کی گئی۔