Wednesday, 08 August, 2007, 04:31 GMT 09:31 PST
ایوب ترین
کوئٹہ
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں لوئے جرگہ میں شرکت کیلئے بلوچستان سے سوافراد پر مشتمل وفد شرکت کر رہا ہے۔ اس جرگہ میں حکومت نے بلوچ قبائلی سرداروں کوشرکت کی دعوت نہیں دی ہے، البتہ بلوچستان کے پشتون قبائلوں کی ایک بڑی تعداد شرکت کر رہی ہے۔ مذہبی جماعتوں نے اس میں شرکت سے انکار کیا ہے۔
کابل میں نو سے گیارہ اگست تک ہونے والے تین روزہ جرگے میں بلوچستان سے شرکت کرنے والے پاکستانی عمائدین کا کہنا ہے کہ اس کے خطے میں امن و امان کے قیام پر مثبت اثرات مرتب ہونگے کیونکہ بقول ان عمائدین کے افغانستان میں جاری جنگ سے اب پاکستان کوبھی خطرہ لاحق ہے۔
اس سلسلے میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سابق صوبائی وزیرنصیرباچا نے کہاکہ طالبان کی جرگے میں شرکت کی دعوت دینی چاہیئے تھی اوراس جرگے میں اس پر بات ہونی چاہیئے کیونکہ جب تک طالبان کاموقف سامنے نہیں آئے گا اس وقت تک جرگے سے تمام نتائج حاصل نہیں کر سکتے۔
لیکن جمعیت علماء اسلام کے صوبائی امیر اور قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے رکن مولانا محمد خان شیرانی نے طالبان کواشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جب تک دونوں فریقین کی جانب سے جرگہ کو فیصلوں کا اختیار نہیں دیاجائے گا اس وقت تک اس جرگے کے مثبت نتائج برآمد نہیں ہوسکتے۔
انہوں نے کہا کہ قبائلی روایات میں جرگے کومکمل فیصلے کرنے کااختیار حاصل ہوتا ہے اور جو فیصلہ ہوگا وہ فریقین کیلئے قابل قبول ہونا چاہیئے لیکن اس جرگے میں اصل فریق کونہ دعوت دی گئی ہے اور نہ ہی ان سے بات ہوئی ہے اور یہ بھی معلوم نہیں کہ جرگے کے فیصلوں کا اطلاق کسی پر کس کے ذریعے نافذ کیا جائے گا۔
اس سلسلے میں بلوچستان کے قائم مقام گورنر جمال شاہ کاکڑ نے بتایا کہ پاکستان کی وزارت داخلہ نے حکومت مخالف بلوچ سرداروں نواب خیربخش مری اور سردار عطاءاللہ مینگل کو شرکت کی دعوت نہیں دی ہے اور جو لوگ پاکستان سے اس جرگہ میں شرکت کیلئے جا رہے ہیں ان میں قبائلی معتبرین سیاسی رہنما اور سرکاری ملازمین بھی شامل ہیں۔
’اس صورت حال میں اگردونوں جانب سے مخلصانہ کوششیں نہ ہوئی تو پھراس کے خطرناک نتائج بھی برآمد ہوسکتے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ جرگہ کی تعداد پہلے مرحلے میں کم رکھنی چاہیئے تھی۔
طالبان کی شرکت نہ کرنے کے بارے میں ایک سوال پرنواب ایازجوگیزی نے کہا کہ طالبان کوافغانستان کی سیاست میں اس طرح حصہ لینا چاہیئے جس طرح پاکستان میں مولانا فضل الرحمان اورقاضی حسین احمد کی پارٹیاں ہیں۔ انہوں نے پاکستان میں مذہبی جماعتوں کو اس جرگہ میں شرکت کر کے خطے میں لگی ہوئی آگ کوبھجانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے تھا کیونکہ امن کیلئے کام کرنا اسلامی اور قبائلی روایات کا حصہ ہے۔
کابل میں ہونے والے جرگہ کے بارے میں کوئٹہ میں عام لوگوں کے خیالات بھی ملے جلے ہیں۔ اس سلسلے میں شہریوں کا کہنا کچھ ہے لیکن اس کے برعکس بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں امریکی افواج کی موجودگی طالبان اور مذہبی جماعتوں کی شرکت کے بغیر اس جرگے کی کامیابی کے امکانات کم ہیں جبکہ بعض نے کہا کہ اس کے دور رس نتائج برآمد ہونگے۔
واضع رہے کہ گذشتہ سال افغانستان سے ملحقہ بلوچستان کے قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے قبائلی عمائدین نے کہا تھا کہ جب تک انہیں مکمل اختیارات نہیں دیے جائینگے اس وقت تک بلوچستان سے پاک افغان سرحدپرمشکوک افراد کی روک تھام ایک مشکل عمل ہے۔
یاد رہے کہ چند ماہ قبل اس جرگہ کوبلانے کا فیصلہ واشنگٹن میں امریکی صدر جارج بش، پاکستانی صدر جنرل پرویزمشرف اورافغان صدر حامد کرزئی کے درمیان ملاقات میں ہوا تھا۔