Monday, 06 August, 2007, 16:31 GMT 21:31 PST
احمدرضا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کے فوجی صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ موجودہ اسمبلیاں ہی آئندہ مدت کے لیے انہیں صدر منتخب کریں گی اور وردی کے معاملے پر بات انتخابات کے بعد طے ہوگی۔
انہوں نے یہ بات پیر کو کراچی میں حکمران مسلم لیگ (ق) کے صوبائی رہنماؤں، قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ارکان اور پارٹی کے حمایت یافتہ ضلع ناظمین کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
صدر جنرل پرویز مشرف اتوار سے کراچی کے دورے پر ہیں اور اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں اور ارکانِ پارلیمان سے ملاقاتیں کر رہے ہیں تاہم ان ملاقاتوں سے ذرائع ابلاغ کو دور رکھا گیا ہے۔
جنرل مشرف نے پیر کو وزیراعلیٰٰ ہاؤس میں پاکستان مسلم لیگ (ق) کے رہنماؤں، قومی و صوبائی اسمبلی کے اراکین اور پارٹی کے حمایت یافتہ ضلع ناظمین کے ایک اجتماع سے خطاب کیا اور وزیر اعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم سے تنہائی میں ملاقات بھی کی۔
ذرائع کے مطابق جنرل پرویز مشرف نے مسلم لیگ (ق) کے ارکان کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ موجودہ اسمبلیوں سے ہی آئندہ مدت کے لیے صدر منتخب ہوں گے جس کی دلیل انہوں نے یہ دی کہ آئین میں لکھا ہے کہ اسمبلیوں کی مدت پوری ہونے سے ایک ماہ پہلے صدر کا انتخاب ہونا ضروری ہے لہذا صدر کے انتخاب کے لیے موجودہ اسمبلیوں کو توڑا نہیں جاسکتا۔
ذرائع کے مطابق جنرل مشرف نے کہا کہ حکمران اتحاد میں شامل تینوں جماعتیں مسلم لیگ (ق)، فنکشنل لیگ اور متحدہ قومی موومنٹ باہمی اختلافات ختم کریں اور ملک سے انتہا پسندی اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے متحد ہوکر کام کریں۔
حکمراں اتحاد میں اختلافات |
واضح رہے کہ گزشتہ روز صدر نے متحدہ قومی موومنٹ اور مسلم لیگ فنکشنل کے رہنماؤں اور ارکان اسمبلی سے علحیدہ علحیدہ ملاقاتیں کی تھیں جن کی تفصیل ذرائع ابلاغ کو جاری نہیں کی گئی تاہم ذرائع کے مطابق اجلاس میں صدر نے اپنے حلیفوں کو آئندہ عام انتخابات کے حوالے سے اعتماد میں لیا اور انہیں بتایا کہ وہ پندرہ ستمبر کو صدر کے عہدے کے لیے موجودہ اسمبلیوں سے ہی دوبارہ منتخب ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں اور اس سلسلے میں آئندہ ماہ عوامی رابطہ مہم بھی شروع کریں گے۔
ذرائع کے مطابق صدر مشرف نے اپنے حلیفوں کو بے نظیر بھٹو سے مبینہ ملاقات اور رابطوں کے بارے میں کوئی واضح بات نہیں بتائی بلکہ یہی کہا کہ وہ انتخابات کی تیاری کریں انتخابات کے بعد صورتحال واضح ہوجائے گی۔