Saturday, 04 August, 2007, 10:44 GMT 15:44 PST
شفیع نقی جامعی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
مسلم لیگ نواز کے رہا ہونے والے رہنما مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا ہے کہ ملک کے سیاسی معاملات میں مداخلت جاری رکھنے سے فوج کے وقار کو مزید نقصان پہنچےگا اور اس سے پاکستان کا دفاع بھی متاثر ہوگا۔
بی بی سی سے خصوصی بات چیت میں جاوید ہاشمی کا کہنا تھا کہ وہ نہ صرف اپنے ان خیالات پر قائم ہیں جن کی بنیاد پر ان پر مقدمہ قائم ہوا تھا بلکہ ان کے یہ خیالات مزید پختہ ہو گئے ہیں۔ ’سیاسی معالات میں فوج کا عمل دخل نہ صرف خود فوج کے لیے بلکہ ملک اور قوم کے لیے بھی تباہ کن ہو سکتا ہے۔‘
فوج نہیں بچا سکی |
انہوں نے کہا کہ اب یہ بات مسلمہ ہے کہ کسی بھی ملک کی فوج اس کا اکیلے دفاع نہیں کر سکتی بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ملک کے عوام اس کے ساتھ ہوں کیونکہ عوامی حمایت کے بغیر فوج کی کوئی اہمیت نہیں۔
اپنے اس مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے جاوید ہاشمی کا کہنا تھا: ’جب پہلے ملک ٹوٹا تھا تو اس وقت یحیٰ خان کی وردی تھی اور اب ہم یحیٰ خان کی وردی کو جنرل پرویز مشرف کے جسم پر دیکھ رہے ہیں۔ کوئی یحیٰ خان ملک کو نہیں بچا سکتا بلکہ ملک کو اس کے عوام، آئین اور اللہ کی ذات بچا سکتی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ اب ملک کسی دوسرے، تیسرے یا چوتھے جنرل یحیٰ خان کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
مرغی مر چکی |
ان کا کہنا تھا کہ ’یہی عدالتیں، سپریم کورٹ اور سیاسی جماعتیں مارشل لاء کے ماں باپ بنتے رہے ہیں لیکن اب مارشل لاء مر چکا ہے اور اس کے انڈے بچے دینی والی مرغی بھی مر چکی ہے۔‘
سیاسی جماعتوں اور فوجی حکومت کے درمیان تعاون کے امکانات پر جاوید ہاشمی نے کہا کہ اگر ایسا ہوا تو ملک کو ایک دوسرے سانحہ مشرقی پاکستان سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ ’اگر سیاسی جماعتوں نے وہی کیا جو یحیٰ خان کے زمانے میں کیا تھا تو بلوچستان کو علیحدگی سے کوئی نہیں روک سکتا۔ اس سے نہ صرف پاکستان بلکہ فوج کو بھی ٹوٹنے سے نہیں بچایا جا سکے گا۔‘
چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی کی تحریک کے حوالے سے مسلم لیگ نواز کے نائب صدر نے کہا کہ چیف جسٹس کے باہر آنے سے پاکستان میں فیڈریشن زندہ ہوئی ہے۔ ’اب تمام صوبوں کے عوام محسوس کرتے ہیں کہ اگر ان کے ساتھ کوئی ناانصافی ہوتی ہے تو اسلام آباد کی ایک عدالت سے ان کی داد رسی ہو سکتی ہے۔‘
جاوید ہاشمی نے اس خیال کی تردید کی کہ گزشتہ چار سالوں میں پاکستان میں زمینی حقائق تبدیل ہو چکے ہیں اور مزاحمتی سیاست کا دور ختم ہو چکا ہے۔’پیپلز پارٹی، ایم ایم اے یا مسلم لیگ، جو بھی آمریت کے ساتھ کھڑا ہوا عوام اس کو معاف نہیں کریں گے۔‘
آزاد ذرائع ابلاغ |
بے نظیر بھٹو اور جنرل پرویز مشرف کے درمیان مبینہ ڈیل، اے آر ڈی میں اختلافات اور مولانا فضل الرحمن کی جانب سے جنرل مشرف کے بحیثیت فوجی سربراہ دوبارہ صدر منتخب ہونے کی حمایت کے عندیے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں جاوید ہاشمی نے اپنا یہ مؤقف دھرایا کہ زمینی حقائق بدل چکے ہیں اور ایسے میں ’کسی کے لیے یہ ممکن نہیں کہ عوامی خواہشات کے خلاف جا سکے۔‘
پاکستان میں فوج کے سیاسی کردار سے متعلق جاوید ہاشمی کا مزید کہا تھا کہ ’ہماری فوج اسلامی دنیا میں سب سے اعلیٰ، تربیت یافتہ اور ڈسپلن کی پابند فوج ہے اور یہ فوج چند جنریلوں کی اقتدار کی خواہش کے لیے قربان نہیں کی جا سکتی۔‘
بی بی سی کے ساتھ بات چیت میں جاوید ہاشمی نے امریکہ کی ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ میں پاکستان کے کردار کے حوالے سے کہا کہ ’پاکستان کی فوج کو چلانے والے خود فوج کو تقسیم کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔‘
سازش کے مترادف |
اس بارے میں جاوید ہاشمی نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ کے حوالے سے خود امریکہ میں سوچ بدل رہی ہے۔ ’ آج جارج بُش کو وہ حمایت حاصل نہیں ہے جو انہیں حاصل تھی۔ اگر امریکی عوام صدر بش کی حمایت نہیں کر رہے تو پاکستان ان کی حمایت کیوں کرے۔‘
اس سوال کے جواب میں کہ قید کے دوران پاکستان کی سیاست کے حوالے سے ان کے خیالات میں کیا تبدیلی آئی ہے، جاوید ہاشمی نے کہا کہ اب پاکستان میں شخصی سیاست کا دور ختم ہو چکا ہے اور تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے ہاں جمہوری رویہ اپنانا ہوگا۔ ’ جب تک خود سیاسی جماعتوں میں جمہوریت نہیں آئےگی اس وقت تک پاکستان میں جمہوریت نہیں آ سکتی۔ ہمیں اب پاکستان میں جمہوریت کا بیج بونا ہے تا کہ آئندہ نسل کو اس کا ثمر مل سکے۔‘
’ میں نے گزشتہ عرصے میں نے بہت کچھ پڑھا لیکن عجیب بات یہ ہے کہ میرے خیالات وہی ہیں جو سکول کے دنوں میں تھے۔ میرا نظریہ اور سیاست وہی ہے کہ اس دھرتی کو جمہوریت چاہیئے۔ اگر اسلام کی بات بھی کرنا ہے تو اس کے لیے بھی جمہویت کا ہونا ضروری ہے۔‘