Saturday, 04 August, 2007, 13:03 GMT 18:03 PST
نیئر شہزاد
راولپنڈی
اسلام آباد پولیس نے پولیس اہلکاروں کے اغوا اور سپر مارکیٹ کے دوکانداروں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کے مقدمات میں لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز سے تفتیش کی ہے۔
مولانا عبدالعزیز، ان کی اہلیہ، دو بیٹیوں اور سولہ دیگر ملزمان کو جب سنیچر کے روز مختلف مقدمات میں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا تو تھانہ کوہسار کے ایس ایچ او اشرف شاہ نے عدالت سے درخواست کی کہ وہ ملزم سے ان دو مقدمات میں تفتیش کرنا چاہتے ہیں جس پر عدالت کے جج سخی محمد کہوٹ نے انہیں عدالت سے ملحقہ کمرے میں ملزم سے تفتیش کرنے کی اجازت دے دی۔
دو گھنٹے تک چلنے والی اس تفتیس کے دوران پو لیس اہلکاروں نے ان سے ان مقدمات کے بارے میں پوچھ گچھ کی اور پولیس کا کہنا ہے کہ اس پوچھ گچھ کے دوران مولانا عبدالعزیز نے ایسے کسی بھی واقعہ میں ملوث ہونے سے انکار کیا۔
تفتیشی افسر اشرف شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ اگرچہ مولانا عبدالعزیز براہ راست ان مقدمات میں ملوث نہیں لیکن ان کی اعانت ان مقدمات میں شامل تھی۔
عدالت نے مولانا عبدالعزیز اور لال مسجد کے سولہ طلباء اور اساتذہ کو چینی باشندوں کے اغوا، رینجرز کے ایک اہلکار کے قتل اور دیگر چار مقدمات میں جبکہ جامعہ حفصہ کی پرنسپل ام حسان، ان کی دو بیٹیوں طیبہ دعا اور عصمہ عزیز کو رینجرز اہلکار کے قتل کے الزام میں چودہ دن کے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا۔
عدالت نے تفتیشی افسر کو حکم دیا کہ وہ ملزمان کو سترہ اگست کو عدالت میں دوبارہ پیش کریں۔
ادھر عدالت نے لال مسجد کے وکیل وجییہ اللہ کی چینی باشندوں کے اغوا کے مقدمے میں ان افراد کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی ہے۔