Friday, 03 August, 2007, 10:03 GMT 15:03 PST
نیئر شہزاد
راولپنڈی
انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج سخی محمد کہوٹ نے جمعہ کے روز لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز کے خلاف اگست دو ہزار پانچ میں درج ہونے والے مقدمے میں ان کی ضمانت کی درخواست منظور کر لی ہے۔
عدالت نے وکیل صفائی کو حکم دیا ہے کہ وہ پچاس ہزار کے مچلکے عدالت میں جمع کروائیں۔
واضح رہے کہ مولانا عبدالعزیز کے خلاف پچیس سے زائد مقدمات درج ہیں جن میں جن میں سے دو مقدمات میں ان کی ضمانت ہوچکی ہے۔ ان مقدمات میں زیادہ تر انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج کیے گئے تھے۔
اس درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے ملزم کے وکیل حشمت حبیب نے کہا کہ پانچ اگست دو ہزار پانچ میں تھانہ آبپارہ میں ان کے موکل کے خلاف درج ہونے والہ مقدمہ بدنیتی پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا عبدالعزیز نے جمعہ کے خطبہ کے لیے لاوڈ سپیکر کا استعمال کیا اور کسی بھی مسجد کا خطیب جمعہ کے خطبےکے لیے لاوڈ سپیکر کا استعمال کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مقامی پولیس نے ان کے مؤکل کے خلاف انسداد دہشت گردی کے ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔
وکیل استغاثہ راجہ قیوم نے اس درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ مولانا عبدالعزیز نے جمعہ کے خطبے کے دوران لوگوں کے جذبات کو بھڑ کایا تھا اور انہیں حکومت کے خلاف جہاد رکھنے کو کہا تھا لہذا ان کی درخواست کی ضمانت منظور نہ کی جائے۔
حشمت حبیب نے لال مسجد کے ایک وکیل وجیہ اللہ کے خلاف درج تین مقدمات میں جن میں چینی باشندوں کے اغوا، تین پولیس اہلکاروں کے اغوا اور آبپارہ مارکیٹ میں وڈیو کیسٹ کے دکانداروں کو دھمکیاں دینا شامل ہیں کی ضمانت کی درخواست دائر کی ہے۔
اس درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان تینوں مقدمات میں ان کے مؤکل کا نام نہیں ہے اور پولیس نے انہیں شک کی بنیاد پر گرفتار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس ان کے مؤکل کے خلاف اب تک کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کر سکی۔
وکیل استغاثہ نے اس درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ملزم نے لال مسجد اور جامعہ فریدیہ کے طالبعلموں کو چینی باشندوں اور پولیس اہلکاروں کو اغوا کرنے پر اکسایا تھا۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد اس درخواست پر فیصلہ سنیچر تک محفوظ کر لیا۔
ادھر حشمت حبیب نے سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی ہے جس میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں نے مبینہ طور پر دو افراد کو لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز اور ان کے بھائی عبدالرشیدغازی کے ساتھ تعلقات کے شبے میں گرفتار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان میں سید ناصر علی شاہ کوچودہ اپریل دو ہزار سات کو اکوڑہ خٹک سے جبکہ عبدالباسط کو اکیس اپریل کو ضلع کچہری لاہور سے اغوا کیا گیا اور تاحال دو افراد لاپتہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ افراد لال مسجد اور جامعہ فریدیہ میں دینی کتابیں فراہم کر تے تھے جس کی وجہ سے ان افراد کے لال مسجد اور جامعہ فریدیہ کی انتظامیہ کے ساتھ ٹیلی فون پر رابطے تھے جس کی بنا پر خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں نے انہیں اغوا کیا۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس درخواست کو بھی سپریم کورٹ میں زیر سماعت لاپتہ ہونے والے افراد کےمقدمے کے ساتھ شامل کیا جائے۔