Thursday, 02 August, 2007, 08:51 GMT 13:51 PST
عبادالحق
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری کی بحالی کی تحریک میں بھرپور حصہ لینے والے پیپلز پارٹی کے وکلاء کو بے نظیر بھٹو اور جنرل پرویز مشرف میں مبینہ ڈیل کی اطلاعات نے امتحان میں ڈال دیا ہے۔
اس صورت حال میں پیپلز پارٹی کے بعض وکلاءنے’خاموشی‘ کی پالیسی اختیار کی ہوئی ہے۔ مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والےوکلاء بھی پیلز پارٹی کے وکلاء کی ’مشکل‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے سنائی دیتے ہیں۔
پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس (ریٹائرڈ)سید زاہد حسین بخاری نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی اور وکلا تحریک کے مقاصد میں کوئی تضاد نہیں ہے۔دونوں ہی ملک میں آمریت کے خاتمے کے لئے کام کررہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ مبینہ ڈیل کی تصفیلات سامنے آنے پر حتمی طور کچھ کہا جاسکتا ہے ۔ان کے بقول بینادی اصولوں کی خلاف ورزی پر پیپلز پارٹی کے اندر رہ کر جدوجہد کی جاسکتی ہے اس مقصد کے لئے پارٹی کوچھوڑنے کی ضرورت نہیں۔
لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور پیپلز لائیرز فورم کے سابق سیکرٹری شاہد محمود بھٹی کے مطابق ماضی میں پیپلز پارٹی نے ہمیشہ ملک میں جمہوریت کی بحالی کی کوشش کی اور آمریت کی بھر پور مخالفت کی ہے۔اس لئے انہیں یقین ہے کہ پیپلز پارٹی ان قوتوں کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی جنہوں نے ’ذوالفقار بھٹو کو قتل کیا اور آئین کو پامال کیا۔‘ انہوں نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن کے تقریباً تیرہ ہزار ارکان ہیں جن میں سے ایک تہائی کا تعلق پی پی پی سے ہے۔
پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے ایک وکیل پرویز عنایت ملک کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کوئی ڈیل نہیں کر رہی تاہم سیاست میں مذاکرات کے راستے بند نہیں کئے جاتے ۔ان کے بقول وکلاء تحریک اور پیپلز پارٹی کے اب بھی راستے الگ الگ نہیں ہونگے۔
ذوالفقار بھٹو کی کابینہ کے وزیر قانون ایس ایم مسعود کا کہنا ہے کہ جب تک معاملات واضح نہیں ہوتے اس وقت کوئی دو ٹوک موقف سامنے آئے گا۔
پیپلز پارٹی کےوکلاء نجی طور پر اعتراف کرتے ہیں کہ مشرف سے ڈیل کی اطلاعات نے ان کو اندر سے کھوکھلا کردیا ہے اور ان کو ایسا محسوس ہورہا ہے جیسے کسی نے ان کو بڑی سزا سنادی گئی ہو تاہم ان کا کہنا ہے کہ پارٹی کو چھوڑنے والوں کی تعداد دس فیصد سے زیادہ نہیں ہوگی۔
پیپلز پارٹی کے وکلاء تذبذب کی اس کیفیت سے کیسے چھٹکارا پاتے ہیں اور صف آرائی کی آئندہ نوعیت کیا ہوسکتی شاید اس کا حتمی جواب کسی کے پاس نہیں۔