Thursday, 02 August, 2007, 13:48 GMT 18:48 PST
رفاقت علی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
اٹارنی جنرل جسٹس (ریٹائرڈ) ملک قیوم نے کہا ہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے مقدمے کے تفصیلی فیصلے میں اگر سپریم کورٹ نے یہ قرار دیا کہ چیف جسٹس کےخلاف ریفرنس بدنیتی کی بیناد پر دائر کیا گیا تھا تو وہ وزیر اعظم کو استعفیٰ دینے کا مشورہ دیں گے۔
ملک قیوم چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست میں وفاقی حکومت کے وکیل تھے اور مقدمے کی سماعت کے دوران انہوں نےایک پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ اگر سپریم کورٹ نےچیف جسٹس کی آئینی درخواست کو مانتے ہوئے ریفرنس کو ختم کر دیا تو وزیر اعظم کو مستعفی ہوجانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں اگر یہ قرار دے دیاکہ ریفرنس بدنیتی کی بنیاد پر دائر کیا گیا تھا تو میں وزیر اعظم کو مستعفی ہونے کا مشورہ دوں گا۔
ملک قیوم نے کہا کہ ان کے اٹارنی جنرل ہوتے ہوئے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف ریفرنس دائر نہیں کیا جائے گا اور اگر دائر کیا گیا تو وہ اٹارنی جنرل کے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ ان کی کوشش ہو گی کہ جن ڈپٹی اٹارنی جنرل کو ان کے عہدوں سے ہٹایا گیا ہے ان کو دوبارہ بحال کر دیا جائے۔/