Thursday, 02 August, 2007, 20:43 GMT 01:43 PST
ایوب ترین
کوئٹہ
بلوچستان کے سیلاب زدہ علاقے جھل مگسی میں اطلاعات کے مطابق گیسٹرو کی وباء پھیلنے سے چار بچوں سمیت چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں تا ہم سرکاری سطح پران اطلاعات کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔
جھل مگسی کے علاقے گنداوہ کے گاوں کوٹڑاہ میں مقامی لوگوں لوگوں نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ سیلابی پانی پینے کی وجہ مقامی آبادی میں گیسٹرو کی وباء پھیل گئی ہے جس کے نتجے میں جمعرات کو تین بچے ہلاک اور ستر سے زیادہ متاثرہوئے ہیں جن میں سے بعض حالت تشویشنا ک ہے۔
اس حوالے سے جھل مگسی کے رابطہ آفیسر سرفراز خان کا کہنا تھا کہ سیلاب سے پیداہونے والی بیماریوں سے نمٹنے کے لیے محکمۂ صحت کی امدادی ٹیمیں کام کر رہی ہیں اور کسی بھی جگہ سے کسی کے مرنے کی اطلا ع نہیں آئی ہے تاہم دوسری جانب گنداوہ کے ایک نجی ہسپتال کے ڈاکٹر قادر بلوچ نے بتایا کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران گیسٹرو کی وجہ سے چار بچوں سمیت چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ علاقے میں ایک ڈسپنسری موجود ہے مگر وہاں کوئی ڈاکٹر نہیں جس کی وجہ سے لوگ نجی ہسپتالوں سے علاج کرانے پر مجبور ہیں۔ ایک مقامی صحافی رحمت اللہ نے بتایا کہ سرکاری ہسپتالوں میں ادویات میسر نہیں اور وہاں صرف او آر ایس مہیا کیا جا رہا ہے۔ ادھر مقامی لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ تاحال حکومت کی جانب سے صاف پانی کی فراہمی کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔
واضع رہے کہ جھل مگسی بلوچستان کے حالیہ سیلاب میں سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے اور وہاں کئی ایسے دیہات ہیں جن کا ابھی تک باقی علاقوں سے سڑک کا رابطہ بحال نہیں ہو سکا۔
دوسری جانب کوئٹہ میں صوبائی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل خدا بخش بلوچ نے کہا ہے کہ حالیہ بارشوں اور سیلاب سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 202 ہے جبکہ 185 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
ان کے مطابق بارشوں اور سیلاب سے جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین مجموعی طور پر دو کروڑ دو لاکھ روپے تقسیم کیے گئے ہیں اور فی خاندان ایک لاکھ روپے ادا کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اب تک صوبے میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریلیف کا کام پچانوے فیصد مکمل ہو چکا ہے اور تمام اضلاع میں اشیائے خورد و نوش وافر مقدار میں پہنچا دی گئی ہیں ۔