Wednesday, 01 August, 2007, 23:10 GMT 04:10 PST
ذوالفقار علی
بی بی سی، اردو ڈاٹ کام، مظفرآباد
جامعہ حفصہ میں تعلیم حاصل کرنے والی پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی پچاس سے زائد طالبات کا ابھی تک سراغ نہیں لگایا جاسکا ہے جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ دو سو طالبات اور بائیس معلمات جن کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے ہے اپنے گھروں کو واپس پہنچ چکی ہیں۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ ماہ پاکستان کی وزارت داخلہ کی طرف سے ان کو جامع حفصہ کی دو سو اٹھاون طالبات اور بائیس معلمات کی فہرست ملی تھی اور یہ ہدایت کی گئی تھی کہ ان کے بارے میں چھان بین کی جائے کہ آیا وہ اپنے گھروں کو واپس پہنچ چکی ہیں یا نہیں۔
تاہم حکام نے کہا کہ دو سو طالبات اور بائیس معلمات کا سراغ لگا یا جاسکا ہے اور وہ اپنے گھروں کو بخیریت واپس پہنچ چکی ہیں۔
لیکن حکام کے مطابق اٹھاون طالبات کا ابھی تک اس لئے سراغ نہیں مل سکا ہے کیوں کہ وزارت داخلہ نے ان کے غلط یا نامکمل پتے فراہم کیے تھے۔
حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے وزارت داخلہ سے کہا ہے کہ وہ ان کے صحیح اور مکمل پتے فراہم کرے تا کہ ان طالبات کے بارے میں معلومات اکٹھی کی جاسکیں۔
اسلام آباد میں وزارت داخلہ کے حکام کا کہنا ہے کہ جامعہ حفصہ کے ریکارڈ کے مطابق وہاں پرایک ہزار سات سو سترہ طالبات زیر تعلیم تھیں، جن میں پندرہ سو بیس جامعہ حفصہ میں ہی قیام پذیر تھیں۔
وزارت داخلہ کے حکام کا کہنا ہے کہ تمام طالبات کو ان کے گھروں میں بھجوادیا گیا ہے اور اب وزارت داخلہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور پاکستان کی صوبائی انتظامیہ کے ذریعے ان کے گھروں کی بحفاطت واپسی کی تصدیق کرا رہی ہے۔
حکام کے مطابق لال مسجد اور جامع حفصہ کے خلاف تین جولائی سے گیارہ جولائی تک جاری رہنے والی فوجی کاروائی کے دوران ایک سو دو افراد ہلاک ہوئے تھے۔