Wednesday, 01 August, 2007, 01:41 GMT 06:41 PST
ایوب ترین
کوئٹہ
بلوچستان حکومت نے صوبائی حکومت کے ترجمان رازق بگٹی اور حب میں چینی انجینئروں کے قافلے پر حملے کے ذمہ داروں کی نشاندہی کرنے والوں کے لیے بیس بیس لاکھ روپے کےانعام کا اعلان کیا ہے۔
جبکہ دوسری جانب پولیس نے رازق بگٹی قتل کے الزام میں سوسے زیاد ہ لوگوں کوگرفتارکرکے شامل تفتیش کیا ہوا ہے۔
اس سلسلے میں معلومات فراہم کرنے والے اشخاص کے نام پوشیدہ رکھنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ رازق بگٹی کو ستائیس جولائی کومبینہ طور پر فائرنگ کرکے کوئٹہ میں قتل کیا گیا تھا بعد میں بلوچ لبریشن آرمی نامی زیرِ زمین تنظیم کے ترجمان ببرگ بلوچ نے اس کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
کوئٹہ میں ڈی آئی جی انویسٹگیشن رحمت اللہ نیازی نے کہاکہ گرفتار افراد سے تفتیش ہورہی ہے مگرابھی تک پولیس کواصل ملزمان تک پہنچنے میں کامیابی نہیں ہوئی ہے۔
دوسری جانب منگل کی رات ضلع بولان کے علاقے درین میں پہاڑوں سے نامعلوم افراد نے دو راکٹ فائر کئے سرکاری ذرائع کے مطابق واقعہ میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
ادھر بلوچستان کے صنعتی شہر حب میں رات گئے ایک فیکٹری کی دیوار کے ساتھ نامعلوم تخریب کاروں کی جانب سے نصب دھماکہ خیز مواد زور دار دھماکے سے پھٹ گیا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
دھماکے سے فیکٹری کی دیوار کو معمولی نقصان پہنچا ہے۔