Tuesday, 31 July, 2007, 19:30 GMT 00:30 PST
ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ، اسلام آباد
صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو تسلیم کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ساتھ نو مارچ سے پہلے جیسے اچھے تعلقات تھے وہ مستقبل میں بھی رہیں گے۔
یہ بات انہوں نے وفاقی دارالحکومت میں سرکاری ٹی وی چینل پی ٹی وی کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے اعلٰی عدالت کے فیصلے کے بعد پہلی مرتبہ کسی تقریب میں اس موضوع پر بات کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے ذاتی انا کا کوئی مسئلہ نہیں کیونکہ ذاتی انا قومی مسائل کے درمیان میں نہیں آنی چاہیے۔ میں صرف قومی مفاد دیکھتا ہوں۔ میں تمام ججوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہوں اور ان کے فیصلے کی عزت کرتا ہوں‘۔
چیف جسٹس کے ساتھ ذاتی تعلقات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ نو مارچ سے قبل ان کے ساتھ بہت اچھے تعلقات تھے۔ ’وہ میرے گھر آیا کرتے تھے ہمارے خاندانی روابط تھے اور میں امید کرتا ہوں کہ یہ تعلقات مستقبل میں بھی ویسے ہی رہیں گے‘۔
صدر نے ایک مرتبہ پھر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے ریفرنس سپریم کورٹ بھیجا تھا۔
ملک میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور سیاسی بحرانوں کا سامنا کر تے صدر بظاہر عدلیہ سے تعلقات دوبارہ بحال کرنے کی کوشش کرتے دکھائی دے رہے تھے۔
صدر مشرف نے واضع کیا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ عدلیہ، انتظامیہ اور مقننہ ایک دوسرے کے ساتھ بہتر انداز میں کام کریں گے۔ ’یہ بہتر ہوگا کہ اگر یہ تینوں اپنی اپنی حد میں رہیں اور اسی طرح بہتر تعلقات استوار ہوسکتے ہیں‘۔
جنرل پرویز مشرف نے اعتراف کیا کہ ملک اس وقت مشکل حالات سے گزر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک کو تین چیلنجوں کا سامنا ہے ایک دہشت گردی، دوسرا معیشت میں بہتری کو تسلسل دینا اور تیسرا انتخابات کے بعد ایک مستحکم سیاسی ماحول کو برقرار رکھنا۔
پہلے چیلنج یعنی دہشت گردی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کو ہیرو کے طور پر پیش نہ کرے۔ ’یہ کیسے کیا جائے یہ میں نہیں بتا رہا ہوں میں یہ بتا رہا ہوں کہ کیا کرنا چاہیے۔ ہمیں انہیں کم وقت دینا چاہیے۔ رپورٹ ضرور کریں لیکن اگر ہم انہیں دن رات دکھائیں گے تو انہیں ہم ہیرو میں تبدیل کر دیں گے‘۔
صدر نے میڈیا سے کہا کہ وہ غم و اداسی اور ناامیدی کی باتیں کرکے قوم کا مورال خراب نہ کرے اور اسلام کا صحیع رخ دنیا کو دکھائے۔ ان کا اصرار تھا کہ ملک میں بہت کچھ اچھا بھی ہو رہا ہے میڈیا کو وہ بھی دکھانا چاہیے۔
تقریباً پندرہ منٹ کی تقریر میں صدر نے بےنظیر بھٹو کے ساتھ ملاقات کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔