حسن مجتبی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نیویارک
پاکستنانی زیر انتظام کشمیر میں بھی پاکستانی انٹیلیجنس ایجنسیوں کے ہاتھوں شہریوں کی میبنہ گمشدگیاں ہوں کہ وہاں حال ہی میں ہونے والے عام انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلیوں کی رپورٹیں، قدرت اور انسانوں کی دہشتگردی کے مارے ہوئے اس بد نصیب خطے میں زلزلے سے متاثرہ لوگوں میں امداد و تعمیر نو کی رقوم میں بہت ہی بڑے پیمانے پر خرد برد، وزیراعظم سردار عتیق اتوار کی رات ہر چيز کی تردید کرتے نظر آئے۔ اسی لیے کسی نے انہیں کشمیر کے ’سردار تردید‘ کا نام دیا۔
کبھی نہ سونے والے نیویارک میں، ’عالمی پنجابی کانفرنس‘ (جسکا حال و احوال پھر ہوگا) کو بیچ میں چھوڑ کر جب ہم کوئنز سے بروکلین براستہ جمئیکا ایکسپریس ویز میں بھٹکتے ’لٹل پاکستان کہلانے‘ والے کونی آئیلینڈ میں اس مقامی ریستوران میں پہنچے جہاں پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے وزیراعظم سردار عتیق کے اعزاز استقبالیہ دیا جا رہا تھا تو وہ پہر شروع ہو چکا تھا جب نیویارک کے شرابی باروں سے گھروں کو لوٹنے کے حوصلے باندھنے اور رات کے راہیوں کے رتجگے شروع ہونے والے ہوتے ہیں۔ سامنے سڑک پر ’مکی مسجد‘ تھی اور اس کے ’فوڈ اینڈ بار‘ یعنی ’شراب و طعام‘ جہاں سے کچھ پینے والے سنبھلتے اور لڑکھڑاتے قدموں باہر نکل رہے تھے۔ میں اور میرا صحافی دوست مرتضی بھٹو پر راجہ انور کی لکھی ہوئی کتاب ’دہشتگرد شہزادہ‘ پر بات کرتے ہوئے ایکسپریس وے پر راستہ بھول گئے۔ ’کاش کو ئی اخبار کل کی خبروں کا ہوتا‘ میں نے اپنے صحافی دوست سے کہا۔
لیکن لٹل پاکستان کے نیم تاریک سائڈ واکز یا فٹ پاتھوں پر چہل پہل جاری تھی۔ بروکلین کی مشہور مکی مسجد کے پیش امام حافظ صابر نے کشمیر کے وزیراعظم سردار عتیق کو ان کی امریکہ آمد پر استقبالیہ دیا تھا۔ اچھی خبر یہ تھی کہ کم از ایک میز ایسی تھی جس پر ملیحہ لودھی کا ذکر تھا۔
اس استقبالیے کے باہر کچھ لوگوں نے حافظ صابر کیخلاف مظاہرہ بھی کیا۔ ’مظاہرے میں شریک تین افراد بھارتی قونصل خانے کے تھے‘ کسی نے استقبالیے میں احتجاج کرنے والوں پر تبصرہ کیا۔ لیکن استقبالیے میں شریک ایک شخص نے بروکلین کے نیم تاریک فٹ پاتھ پر ہمیں آ لیا اور نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حافظ صابر کیخلاف مسجد کے فنڈ میں خرد برد پر مظاہرہ جلد ہی انہیں مصبت میں ڈال دے گا۔ باقی مواد میں آپکو بذریعہ ای میل بھیج دوں گا‘۔ اس نے رخصت ہونے سے پہلے کہا۔
![]() | |
| حافظ صابر حامیوں کا جوابی اشتہار |
حافظ صابر نیویارک میں ’پولیٹکل کوآرڈینیٹر برائے وزیراعظم آزاد کشمیر‘ بنے ہوئے ہیں۔
پاکستان کے زیر اتنظام کشمیر کے محکمہ تعلیم سے لے کر فوج اور مزدور پیشہ لوگوں تک مختلف شعبہ جات زندگي سے تعلق رکھنے والے کئي شہریوں کی مبینہ طور پاکستانی انٹیلجینس ایجینسیوں کے ہاتھوں بڑے پیمانے پر طویل عرصے سےگرفتاریوں اورگمشدگیوں کی رپورٹوں کے متعلق بی بی سی اردو ڈاٹ کام کی طرف سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں سردار عتیق نے کہا کہ کچھ لوگ آزاد جموں اور کشمیر سے زلزلے کے دوران گم ہوگئے تھے لیکن انٹیلیجنس ایجینیسوں کے ہاتھوں شہریوں کے لاپتہ ہونے کی رپورٹوں میں، بقول ان کے کوئي صداقت نہیں۔
![]() | |
| حافظ صابر کے مخالفین کا اشتہار |
ایک صحافی کے حالیہ دورۂ امریکہ کے بارے میں ان کا جواب تھا کہ اس دورے کا مقصد عالمی برادری میں کشمیر کے حوالے سے امن کے عمل کو جلد از جلد پایۂ تکمیل تک پہنچانے کیلیے، بقول ان کے صدر مشرف کی ہمت افزائی کروانا ہے۔ ان کا کہنا تھا: ’صدر مشرف نے کشمیر میں امن کا فارمولا پیش کر کے مخالف ہواؤں کے سامنے سفینہ اتارا ہے‘۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے کشمیر کے معاملات میں فوجی اور جہادی اثر نفوذ نہیں اور وہاں ہونے والے حالیہ انتخابات میں کشمیریوں نے جہادی عناصر و دیگر قوتوں کو مسترد کردیا ہے، مسلم کانفرنس کی جیت ہوئی اور انتخابات میں ساٹھ فی صد ووٹ پڑے۔ بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے استفسار پر انہوں نے ٹرن آؤٹ ’ساٹھ سے اٹھاون فی صد‘ کر دیا۔
انہوں نے ہیومن رائٹس واچ سمیت انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے حالیہ انتخابات میں ہونے والی دھاندلیوں کی رپورٹوں کی بھی تردید کی۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات شفاف اور بین الاقوامی مانیٹرنگ ٹمیوں اور مبصروں کی موجودگي میں ہوئے تھے۔ آٹھ اکتوبر دو ہزار پانچ کے زلزلے کی امداد اور تعمیر نو میں سنگین بے قاعدگيوں کی بھی تردید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تمام دنیا میں اس وقت قطرینہ اور سونامی جیسی قدرتی آفات آئی ہوئي تھیں لیکن کشمیر میں تمام امدادی اور تعمیر نو کے مالی امور مانیٹرنگ کے عالمی گروپوں کی آنکھوں کے سامنے نمٹائے گئے اور بقول ان کے، اس سلسلے میں ’آزاد جموں و کشمیر دنیا بھر میں مالی امور کے حوالے سے شفافیت کی چوٹی پر ہے‘۔
کشمیر: فوجی و جہادی اثر نفوذ نہیں |
ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعظم سردار عتیق نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے جلد از جلد حل کے نتیجے میں پاکستان اور بھارت کو اربوں روپے کا بجٹ فوجوں اور جنگي ہتھیاروں کے بحائے عوام کی بہبود کے لیے میسر آ سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا پاکستان اور بھارت اس میں فریق ضرور ہیں لیکن کشمیر میں امن کا عمل اور اس کا حل صرف کشمیری عوام کی مرضی اور شرکت سے ممکن ہے اور دونوں ملکوں کو اس میں ٹانگ اڑانے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے پاکستانی کشمیر سے بھارت میں در اندازی اور پاکستانی فوج کی مداخلت کی بھی تردید کی۔
میں وزیراعظم سردار عتیق سے یہ سوال کرنا واقعی بھول گیا کہ لوگ کیوں دونوں کشمیروں کی حکومتوں کو کٹھ پتلی حکومتیں اور ان کے سربراہوں کو کٹھ پتلی وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کہتے ہیں۔