http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 28 July, 2007, 12:38 GMT 17:38 PST

نیئر شہزاد
اسلام آباد

اسلام آباد دھماکہ: ایک اور ہلاک

جمعہ کے روز آبپارہ مارکیٹ میں ہونے والے خوکش حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد چودہ ہوگئی ہے۔

سنیچر کے روز پولی کلینک میں ایک اور زخمی پولیس اہلکار محمد رضوان بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا جبکہ اس دھماکے میں زخمی ہونے والوں میں سے چار افراد کی حالت تشویش ناک ہے۔ اس طرح اس خودکش حملے میں ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کے تعداد آٹھ ہوگئی ہے جبکہ سات پولیس اہلکار زخمی ہیں۔

قبائلی علاقے: خودکش حملوں جڑ
اسلام آباد میں خود کش بم حملہ

ادھر مبینہ خودکش حملہ آور کا ڈی این اے ٹیسٹ لیکر لیبارٹری بھجوا دیئے گئے ہیں۔

اس مبینہ دہشت گرد کا پوسٹ مارٹم کرنے والے پمز ہسپتال کے ڈاکٹر فرخ کمال نے بی بی سی کو بتایا کہ اس کا چہرہ قابل شناخت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مبینہ دہشت گرد کی عمر بیس اور بائیس سال کے دوران ہے اور وہ کلین شیو ہے جبکہ وہ حلیے سے پاکستانی دکھائی دیتا ہے۔

ڈی آئی جی اسلام آباد پولیس شاہد ندیم بلوچ کے مطابق بم ڈسپوزل سکواڈ کہ عملے نے ابھی تک اس بارے میں رپورٹ پیش نہیں کی کہ جمعہ کے روز ہونے والے خودکش حملے میں کتنا بارود استعمال ہوا تھا۔
پنجاب کے وزیر اعلی چوہدری پرویز الہی نے پولی کلینک ہسپتال کا دورہ کیا اور زخمیوں کی عیادت کی۔

آبپارہ مارکیٹ کے دوکانداروں نے اس خودکش حملے کے سنیچر کےروز اپنی دوکانیں بند رکھیں اور اس مارکیٹ کے دوکاندار ضلعی انتظامیہ سے اس حملے کو وجہ سے ہونے والے نقصان کے ازالے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ادھر پولیس نے جمعہ کے روز لال مسجد میں ہنگامہ کرنے کے الزام میں گرفتار ہونے والے 65 افراد کو سنیچر کے ورز انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا اور عدالت نے ملزمان کو دو دن کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا۔
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد چوہدری محمد علی نے بی بی سی کو بتایا کہ لال مسجد کا رنگ جو جمعہ کے روز مظاہرین نے خراب کر دیا تھا کو دوبارہ ٹھیک کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسجد کی تزئین و آرائش پر مزید دو دن لگیں گے۔