Friday, 27 July, 2007, 16:55 GMT 21:55 PST
عبدالحئی کاکڑ
بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور
صوبہ سرحد کی حکومت نےایک مراسلے میں مرکزی حکومت سے کہا ہے کہ صوبے میں بالخصوص ضلع سوات اور دیر میں فوج کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور وزیر اعلیٰ نے وفاق سے ان علاقوں میں فوج کی تعیناتی کے حوالے سےکسی قسم کا کوئی مطالبہ نہیں کیا تھا۔
صوبہ سرحد کےوزیراعلیٰ کے دفتر سےجاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صوبائی حکومت نےمرکزی حکومت کو بھیجے گئے ایک خط میں مطالبہ کیا ہے کہ ضلع سوات اور دیر کے عوامی مقامات سے فوج کو واپس بلایا جائے کیونکہ بیان کے مطابق صوبہ سرحد بالخصوص مذکورہ اضلاع میں فوج کی تعیناتی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
وزیر اعلیٰ اکرم خان درانی نے کہا ہے کہ اعلیٰ سطح کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ بوقت ضرورت امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے فوج کو بندوبستی علاقوں میں تعینات کیا جاسکتا ہے تاہم اسے یونیورسٹی، کالجوں، ہسپتالوں یا دیگر عوامی مقامات کی بجائے ضلع مردان، ٹانک، ملاکنڈ اور ڈیرہ اسماعیل خان کی چھاونیوں یا قلعوں تک محدود کیا جائے گا۔ وزیراعلی نے مزید کہا ہے کہ سرحد حکومت اور قانون نافد کرنے والے ادارے صوبے میں امن و امان کو برقرار رکھنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔
صوبائی حکومت نے درخواست کی |