Friday, 27 July, 2007, 18:28 GMT 23:28 PST
ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے سکریٹری داخلہ سید کمال شاہ کا کہنا ہے کہ ملک میں خود کش حملوں کی جڑیں قبائلی علاقے میں ہیں۔
اسلام آباد کے پولی کلینک ہسپتال میں زخمی سپاہیوں کی عیادت کے بعد سید کمال شاہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جمعہ کو آبپارہ کے علاقے میں ایک ہوٹل کے باہر ہونے والا دھماکہ بھی ابتدائی تحقیقات کے مطابق بظاہر خودکش حملہ ہی دکھائی دیتا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں کہ خودکش حلموں کو روکنے کے لیے اٹھائے گئے حکومتی اقدامات کچھ زیادہ موثر دکھائی نہیں دیتے، ان کا کہنا تھا کہ وہ ہر ممکن اقدام کر رہے ہیں۔
’جگہ جگہ سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے، چوکیاں قائم کی گئی ہیں، تلاشیاں لی جا رہی ہیں، جہاں اس قسم کے لوگ آکر ٹھہر سکتے ہیں ان کو دیکھا جا رہا ہے۔ میں اگر ساری تفصیل بتا دوں گا تو کرنے والا ہوشیار ہو جائے گا‘۔
یہ دریافت کرنے پر کہ آیا وہ خودکش حملہ آروں کی جڑ تک پہنچ پائے ہیں تو ان کا جواب تھا کہ جڑ یہاں ہے نہیں۔ ’جڑ فاٹا میں ہے‘۔
سید کمال شاہ کا کہنا تھا کہ ان کے پاس تیرا افراد جن میں سات پولیس اہلکار شامل ہیں کے ہلاک اور باون افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔