Thursday, 26 July, 2007, 14:44 GMT 19:44 PST
نیئر شہزاد
اسلام آباد
جسٹس عبدالحمید ڈوگر اور جسٹس نواز عباسی پر مشتمل سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے ضلعی انتظامیہ سے کہا کہ وہ اس آپریشن میں جاں بحق، لاپتہ اور گرفتار ہونے والے افراد کے بارے میں ایک تفصیلی رپورٹ عدالت میں پیش کرے۔
اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر چوہدری محمد علی نے عدالت کو بتایا کہ اس وقت ایک سو بارہ افراد پولیس کی تحویل میں ہیں جن میں سے باسٹھ افراد کو آج رہا کیا جا رہا ہے۔ ڈی ایس پی سٹی سرکل ملک ممتاز نے بتایا کہ جمعرات کو اکاون افراد کو رہا کرکے انہیں ان کے ورثاء کے حوالے کیا گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کے پاس اٹھاون افراد کی فہرست ہے جو اس آپریشن کے دوران ہلاک ہوگئے تھے لیکن ان کی شناخت ہونا باقی ہے۔
اڈیالہ جیل کے سپرٹنڈنٹ شاہد سلیم بیگ نے عدالت کو بتایا کہ لال مسجد آپریشن کے بعد مولانا عبدالعزیز، ان کی اہلیہ اور ان کی دو بیٹیوں سمیت چھ سو بیس افراد کو جیل بھیج دیا گیا جن میں سے پانچ سو آٹھ افراد کو رہا کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مولانا عبدالعزیز، ان کی اہلیہ اور بیٹیوں کو سملی ڈیم ریسٹ ہاؤس رکھا گیا ہے جسے سب جیل قرار دے دیا گیا ہے۔
لاپتہ افراد کے ورثاء نے عدالت کو بتایا کہ ان کے رشتہ داروں کے نام اس فہرست میں شامل نہیں ہیں جو ضلعی انتظامیہ نے سپورٹس کمپلکس میں آویزاں کی
ہے۔ عدالت نے ضلعی انتظامیہ کو حکم دیاکہ وہ ان لاپتہ افراد کے ورثاء کی ہر ممکن معاونت کریں۔
وزارت داخلہ کے نیشنل کرائسز مینجمنٹ سیل کے سربراہ جاوید اقبال چیمہ نے عدالت کو بتایا کہ اس آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے افراد اور ان کے ورثاء کے ڈی این اے ٹیسٹ لیے جا چکے ہیں اور اس بارے میں کراس میچنگ رپورٹ منگل کو عدالت میں پیش کردی جائے گی۔
انہوں نے کہاکہ جامعہ حفصہ کے ریکارڈ کے مطابق وہاں پر 1717 طالبات زیر تعلیم تھیں، جن میں سے پندرہ سو بیس طالبات جامعہ حفصہ کے اندر ہی قیام پذیر تھیں۔
![]() |
عدالت نے ضلعی انتظامیہ کو حکم دیا کہ مولانا عبدالعزیز کی بہنوں کو ان سے اور ان کے بیوی بچوں سے ملنے دیا جائے۔
عدالت نے اس مقدمے کی سماعت یکم اگست تک ملتوی کر دی۔
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد چوہدری محمد علی نے بتایا کہ سٹی مجسٹریٹ فراست علی خان کی سربراہی میں ایک چار رکنی کمیٹی بنائی گئی ہے جس میں ایک ڈی ایس پی اور دو وکلاء شامل ہیں جو جامعہ حفصہ کی پرنسپل ام حسان سے طالبات کے ریکارڈ کی بابت تحقیقات کرے گی۔
ادھر اِنسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے چینی باشندوں کے اغواء کے مقدمے میں نامزد ملزم مولانا عبدالعزیز کو عدالت میں پیش نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سماعت چار اگست تک ملتوی کر دی۔