http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 26 July, 2007, 04:19 GMT 09:19 PST

ملی بینڈ کا پہلا دورۂ پاکستان

برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ مِلی بینڈ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف سے افغانستان میں برطانوی فوجیوں کی کارروائیوں کے سلسلے میں مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچ چکے ہیں۔ ملی بینڈ کا وزارت خارجہ کا قلمدان سنبھالنے کے بعد یہ پہلا غیر ملکی دورہ ہے۔

اسلام آباد آنے سے قبل وہ کابل گئے تھے۔ ان کے اس دورے سے برطانیہ کی خارجہ پالیسی میں اس خطے کی اہمیت نظر آتی ہے۔

ڈیوڈ ملی بینڈ نے کہا کہ یہ ان کا ذاتی فیصلہ تھا کہ وہ اپنے پہلے غیر ملکی دورے پر پاکستان اور افغانستان آئے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں طالبان کی طرف سے القاعدہ کے لوگوں کو پناہ دینا برطانیہ کی سلامتی کے خلاف ہے اور اس کے افغانستان میں زیادہ دیر رہنے کی ایک وجہ ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ نے کہا کہ حالیہ مہینوں میں برطانیہ کی افغانستان میں کامیابیوں نے طالبان کو نئی حکمت عملی بنانے پر مجبور کر دیا ہے اور وہ زیادہ خودکش حملے کر رہے ہیں۔

وزیر خارجہ کی افغانستان آمد سے چند گھنٹے پہلے ہلمند میں ایک برطانوی فوجی بھی ہلاک ہو گیا تھا۔

ان کا پاکستان کا دورہ بھی اتنا ہی اہم ہے۔ پاکستان کی مغربی سرحد پر قبائلی علاقے
القاعدہ اور طالبان کے لیے پناگاہیں ثابت ہوئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق برطانوی کی طرف سے دہشت گردی کے جواب میں ہونے والی کارروائیوں کے دوران بھی شواہد ان علاقوں کی طرف اشارے کرتے تھے۔

تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ ملی بینڈ کس حد تک صدر مشرف پر ان علاقوں پر گرفت زیادہ مضبوط کرنے کے لیے دباؤ ڈالیں گے۔ برطانیہ ان کو اپنا اہم حلیف سمجھتا ہے اور ان پہلے سے کمزور حکومت کو زیادہ دباؤ میں نہیں لانا چاہتا۔