http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 23 July, 2007, 14:23 GMT 19:23 PST

علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

لال مسجد: از خود نوٹس پر خدشات

اسلام آباد کی لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز کے وکیل نے سپریم کورٹ کے از خود نوٹس پر خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس سے بے شمار بے گناہ افراد کی ہلاکت کا معاملہ پس منظر میں چلا جائے گا۔

حشمت علی حبیب ایڈووکیٹ نے کہا کہ ان کے موکل عبدالعزیز کسی حکومتی تحقیقاتی کمیشن کو قبول کرتے ہیں نہ عدالت کے ازخود نوٹس کے حق میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم سپریم کورٹ کے سوموٹو کے حق میں نہیں ہیں اور جتنے بھی لوگ مطالبہ کرتے ہیں انہوں نے ہماری رضامندی نہیں لی ہے اور وہ اس معاملہ کو پس منظر میں بھیجنا چاہتے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ از خود نوٹس کے تحت ہونے والی کارروائی سرسری اور وقت گذاری کے لیے ہوتی ہے جبکہ وہ چاہتے ہیں کہ اس معاملہ کی مکمل اور تفصیلی انکوائری کی جائے۔

فوجی آپریشن والوں کو سہولت ملی
 اسی عدالت نے آپریشن کے آخری دن سے پہلے از خود نوٹس لیا لیکن حکم امتناعی جاری نہیں کیا تھا جس کا نقصان یہ ہوا کہ جنہوں نے فوجی آپریشن کرنا تھا انہیں سہولت ملی
 
حشمت حبیب

مولانا عبدالعزیز کے وکیل نے کہا کہ اسی عدالت نے آپریشن کے آخری دن سے پہلے از خود نوٹس لیا لیکن حکم امتناعی جاری نہیں کیا تھا جس کا نقصان یہ ہوا کہ جنہوں نے فوجی آپریشن کرنا تھا انہیں سہولت ملی۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا وہی بنچ اب بھی کارروائی کررہا ہے اور اس کی وجہ سے سو کے قریب افراد کی رہائی بھی ہوئی ہے لیکن یہ مسئلے کا حل نہیں ہے۔

مولانا عبدالعزیز کے وکیل نے ان کی جانب سے ایک تحریری درخواست بھی چیف کمیشنر اسلام آباد کو دی ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ چار جولائی سے نوجولائی تک ہونے والے واقعات کی مکمل تحقیقات کروانے کے لیے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں ایک کمیشن قائم کیا جائے جس کے اراکین میں چاروں صوبوں کے چیف جسٹس صاحبان، سابق جج سید وجہیہ الدین اور سابق وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل راجہ حق نواز کو شامل کیا جائے۔ اس درخواست کی ایک نقل چیف جسٹس سپریم کورٹ کو بھجوائی گئی ہے۔

ایڈووکیٹ حشمت حبیب نے کہا کہ چند روز انتظار کے بعد وہ اس معاملے میں اعلی عدلیہ سے رجوع کریں گے۔

انہوں نے چیف کمشنر کے نام اپنی تحریری درخواست میں کہا ہے کہ حکومت نے خود یہ دعوی کیا ہے کہ تیرہ سو افراد نے سرنڈر کیا ہے جبکہ خود پولیس نے تین جولائی کو جو ایف آئی آر درج کی تھی اس میں واضح لکھا تھا کہ کوئی دوہزار کے قریب طلبہ و طالبات نے لال مسجد سے باہر آ کر مظاہرہ کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ سو افراد ہلاک ہوئے تو پھر باقی کہاں چلے گئے اس کی تحقیق کرنا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھ جولائی کو ان کی مرحوم غازی عبدالرشید سے بات ہوئی تھی تو وہ بے حد مطمئن لگ رہے تھے اور الٹا انہوں نے مجھے تسلی دی تھی کہ یہ معاملہ مزید خون خرابے کے بغیر ختم ہوجائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا۔

سو ہلاک ہوئے باقی کہاں گئے؟
 انہوں نے چیف کمشنر کے نام اپنی تحریری درخواست میں کہا ہے کہ حکومت نے خود یہ دعوی کیا ہے کہ تیرہ سو افراد نے سرنڈر کیا ہے جبکہ خود پولیس نے تین جولائی کو جو ایف آئی آر درج کی تھی اس میں واضح لکھا تھا کہ کوئی دوہزار کے قریب طلبہ و طالبات نے لال مسجد سے باہر آ کر مظاہرہ کیا تھا
 
حشمت حبیب

ان کے بقول صدر بش کے حالیہ بیان سے ثابت ہوگیا ہے کہ یہ لال مسجد کا واقعہ دہشت گردی کے خلاف جاری نام نہاد عالمی جنگ کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی انتہا پسندی کوئی چیز نہیں ہے بلکہ سیکولر انتہا پسندی کی وجہ سے لال مسجد کا واقعہ پیش آیا۔

مولانا عبدالعزیز کے خلاف حکومت نے کوئی بیس کے قریب مقدمے قائم کیے ہیں لیکن ان کے وکیل پر عزم ہیں کہ وہ یہ تمام مقدمے غلط ثابت کردیں گے۔

مولانا کے وکیل کا کہنا ہے لال مسجد کے بعد شروع ہونے والے خود کش حملوں کا مولانا عبدالرشید غازی کے پیروکاروں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اگر انہوں نے خود کش حملے کرنے ہوتے تو پھر نوجولائی سے پہلے یہ کام شروع ہو جاتا۔

انہوں نے کہا تواتر سے ہونے والے خود کش حملے بھی اس سنگین مسئلے سے توجہ ہٹانے کی ایک کوشش ہوسکتے ہیں۔