Monday, 23 July, 2007, 11:07 GMT 16:07 PST
نیئر شہزاد
اسلام آباد
لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے واقعہ کا از خود نوٹس لینے والے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پیر کو وفاقی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے بارے میں ایک تفصیلی رپورٹ ایک ہفتے کے اندر عدالت میں پیش کرے۔
عدالت نے حکم دیا ہے کہ حکومت یہ بھی بتائے کہ ابھی تک کتنی خواتین پولیس کی حراست میں ہیں اور کتنی خواتین کو چھوڑا گیا ہے۔
لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے واقعہ کا از خود نوٹس لینے والا سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ جسٹس جاوید اقبال، جسٹس عبدالحمید ڈوگر اور جسٹس نواز عباسی پر مشتمل ہے۔
نیشنل کرائسز مینجمنٹ سیل کے سربراہ جاوید اقبال چیمہ نے عدالت کو بتایا کہ جامعہ حفصہ کی پرنسپل امِ حسان کے بیان کی روشنی میں جامعہ حفصہ کا ریکارڈ قبضے میں لے لیا گیا ہے اور اس بیان کی روشنی میں تمام صوبوں کو وزارتِ داخلہ نے خطوط لکھے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ ان طالبات کے گھروں میں جاکر تحقیقات کریں کہ آیا وہ گھر پہنچی ہیں کہ نہیں۔
انہوں نے کہا: ’ہمارے پاس ان طلباء اور طالبات کی فہرست ہے جو اس علاقے میں کرفیو نافذ ہونے سے پہلے وہاں سے نکل گئے تھے‘۔
جاوید اقبال چیمہ نے کہاکہ اس وقت پولیس کی تحویل میں صرف تین خواتین ہیں ان میں امِ حسان، طیبہ دعا اور عصمہ عزیز شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کے پاس اٹھاون افراد کی فہرست موجود ہے جو کہ اس آپریشن کے دوران ہلاک ہوگئے تھے لیکن ان کی شناخت نہیں ہوسکی۔
نیشنل کرائسز مینجمنٹ کے سربراہ نے کہا کہ ہلاک ہونے والے ان افراد کے ورثاء اسلام آباد کی انتظامیہ سے رابطہ کر رہے ہیں اور ان کے بھی ڈی این اے ٹیسٹ لیے جا رہے ہیں جن کے ابھی تک رزلٹ نہیں آئے۔
انہوں نے کہا کہ ایک سو چونتیس افراد میں سے سنتیس افراد کو رہا کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بےگناہ شخص جیل میں نہیں رہے گا اور حکومت اس ضمن میں ہونے والی تفتیش میں رکاوٹ نہیں ڈالے گی۔
لیگل ایڈ کمیٹی کے ایک رکن توفیق آصف ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ ابھی تک ساٹھ افراد کے ورثاء نے ان سے رابطہ کیا ہے جو ابھی تک لاپتہ ہیں تاہم کسی لڑکی کے ورثاء نے اس ضمن میں رابطہ نہیں کیا۔
![]() |
اس موقع پر ایک شخص نے کھڑے ہوکر کہا کہ لال مسجد اور جامعہ حفصہ میں فوجی کارروائی کے دوران معصوم افراد کو نشانہ بنایا گیا جس پر بینچ کے سربراہ جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ عدالت اس کی تحقیقات نہیں کر رہی کہ کون گناہ گار ہے اور کون معصوم ہے۔
سماعت کے دوران ایک اور شخص نے کہا کہ سی ڈی اے کے عملے نے لال مسجد اور جامعہ حفصہ سے شہید کیے گئے قرآن پاک ایک مارکیٹ کے قریب پھینکے ہیں جس پر کرائسز مینجمنٹ سیل کے سر براہ نے عدالت کو بتایا کہ ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی ہوگی۔
مولانا عبدالعزیز کے ایک رشتہ دار نے عدالت کو بتایا کہ اسلام آباد کی انتظامیہ نے حسان کی لاش کوایچ الیون قبرستان سے جامعہ فریدیہ میں تدفین کی اجازت نہیں دی۔
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد چوہدری محمد علی نے کہا کہ اس ضمن میں مولانا عبدالعزیز اور ان کی اہلیہ کے بیانات موجود ہیں جن میں انہوں نے کہا ہے کہ ان کے بیٹے کی میت کو ایچ الیون قبرستان میں ہی رہنے دیا جائے۔
ایک شخص مزمل شاہ نے عدالت کو بتایا کہ ان کا بیٹا فوجی کارروائی سے قبل عدالت میں نماز پڑھنے کے لیے گیا تھا لیکن ابھی تک ان کا کوئی پتہ نہیں۔
بینچ نے اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو اگلی پیشی پر عدالت میں طلب کر لیا۔ عدالت نے اس مقدمے کی سماعت ستائیس جولائی تک ملتوی کر دی۔