Friday, 20 July, 2007, 02:26 GMT 07:26 PST
عباس نقوی
پولیس پر ممکنہ خود کش حملوں کے پیشِ نظر جمعرات کو حفاظتی اقدامات غیر معمولی طور پر سخت کرنے کے احکامات جاری کر دیئے گئے جس کے بعد کراچی کے بیشتر تھانوں اور پولیس دفاتر کے گیٹ بند کر دیئے گئے ہیں۔
اعلیٰ پولیس افسران کی ہدایت پر تھانے آنے والوں کی جامع تلاشی اور مکمل کوائف کے اندراج کے بعد تھانے میں داخل ہونے کی اجازت ہوگی۔
سندھ پولیس کے سربراہ کی جانب سے پولیس ڈیپارٹمنٹ کو جاری ہونے والے احکامات میں پولیس لائنز، تھانوں اور پولیس ڈیپارٹمنٹ کے دیگر دفاتر میں ہر قسم کی گاڑیوں کی پارکنگ کو ممنوع قرار دیا گیا ہے جبکہ پولیس دفاتر سے مناسب فاصلے پر گاڑیوں کی پارکنگ کی ہدایت دی گئی ہے۔
محکمہ پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کے وعدے پر بتایا کہ بعض انٹیلی جنس ایجنسیز کی رپورٹ میں یہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ دو خود کش حملہ آوروں کے کراچی کے لیے روانہ ہونے کے شواہد ملے ہیں اوران کے ٹارگٹ پولیس اور رینجرز کے دفاتر ہوسکتے ہیں۔
جمعرات کو حفاظتی اقدامات کے انتہائی سخت کیے جانے کے فیصلے کے بعد ہر تھانے نے اپنی اپنی حکمتِ عملی کے تحت اقدامات اُٹھائے۔ بعض تھانوں اور پولیس کے دفاتر میں میٹل ڈیٹیکٹر کی مدد سے تلاشی کا سلسلہ شروع کر دیا جبکہ بعض تھانوں میں جسمانی تلاشی شروع کر دی گئی ہے۔
کراچی کے ایک سو ایک تھانوں کی غیر معمولی سیکورٹی کے علاوہ ڈائریکٹر جنرل رینجرز سندھ کے کانوائے اور رینجرز کے دفاتر کی بھی سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے۔
کراچی میں دہشت گردی کے خدشے کے پیشِ نظر تھانوں کے گیٹ بند ہونے کا سلسلہ ایک طویل عر صے بعد دوبارہ شروع ہوا ہے۔ اس سے قبل کراچی آپریشن کے دوراں پولیس اہلکار تھانوں کے گیٹ بند رکھتے تھے۔
سندھ پولیس کے علاوہ پنجاب کی پولیس کو بھی اس ہی طرز کے حفاظتی اقدامات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔