Thursday, 19 July, 2007, 13:52 GMT 18:52 PST
عباس نقوی
کراچی
کراچی کے بازار حصص میں گزشتہ دو دنوں کے دوراں انتہائی مندی کا رجحان رہا۔ بدھ اور جمعرات کو تقریباً نو سو پوائنٹ کی کمی ریکارڈ کی گئی اور مارکیٹ چھ سے سات فیصد نیچے آگئی۔
بیشتر اسٹاک بروکرز اور تجزیہ نگار کراچی بازار حِصص کی اس صورتحال کی وجہ بم دھما کوں اور امن و امان کی خراب صورتحال کو قرار دے رہے ہیں جبکہ بعض تجریہ کاروں کا خیال ہے کہ مارکیٹ جس سطع پر پہنچ چکی تھی اس کا نیچے آنا فطری عمل تھا۔
ایکوئٹی اینڈ جہانگیر صدیقی بروکریج ہاؤس کے ڈائریکٹر محمد سہیل کا کہنا ہے کہ بازار حصص سے بعض غیر ملکی اور ملکی سرمایہ کاروں کے فروخت کے رُجحان کی بناء پر چھوٹے سرمایہ کاروں میں تشویش کی لہر دوڑی جس کی وجہ سے فروخت کے رجحان میں مزید تیزی آگئی۔
محمد سہیل نے مزید کہا کہ گزشتہ دو دنوں میں مارکیٹ اپنی سابقہ سطع سے چھ سے سات فیصد کم ہوئی ہے۔
بعض اسٹاک بروکرز کا کہنا ہے کہ لال مسجد کے معاملے کے دوران اور اس کے بعد صوبہ سرحد میں ہونے والے بم دھماکوں کے بعد بھی کراچی بازار حصص کی سطح بلندی کی طرف جاتی رہی تاہم منگل کی شب اسلام آباد میں چیف جسٹس آف پاکستان کے جلسے میں خود کش بم دھماکے کے بعد یہ صورتحال تبدیل ہوئی۔
وجوہات |
بدھ کو کراچی بازار حصص اپنی ریکارڈ سطح 14 ہزار پوائنٹ سے تین سو ترانوے پوائنٹ کم ہوئی یہی صورتحال جمعرات کو بھی رہی اور چار سو 65 کی کمی کے بعد مارکیٹ تیرہ ہزار ایک سو چورانوے پوائنٹ تک آپہنچی۔
کیپیٹل ون بروکریج ہاؤس کے ڈائریکٹر بروکنگ شجاع حُسین کا کہنا ہے کہ مارکیٹ جس سطع پر پہنچ چکی تھی وہاں سے اس کا نیچے آنا لازمی تھا۔
شجاع حُسین نے مزید کہا کہ جہاں سرمایہ کار مارکیٹ کے بڑھنے سے تشویش میں مبتلا تھے وہیں امن و امان کی خراب صورتحال اور ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کا امکان اُن کے خدشات کو بڑھا رہا تھا۔