رفیہ ریاض
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
ہم میں سے جو لڑکیاں اندر رہ گئی تھیں ان کے والدین انہیں لینے کے لیے آئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بچیوں کو لینے کے لیے جانا چاہتے ہیں۔ ہمیں پتہ چلا کہ انہیں پولیس والوں نے کہا کہ وہ اندر نہیں جاسکتے لیکن ایک کے والد نے کہا کہ وہ جائیں گے۔ جب وہ (مدرسے کی طرف) آگے آئے تو پولیس والوں نے گولی مار دی انہیں۔ ہمیں تب پتہ چلا جب فون آیا کسی کے گھر سے، باجی کے موبائل پر، کہ کس طرح ان کے والد انہیں لینے کے لیے آئے تھے اور کیا ہوا۔ پھر ہمیں پتہ چلا کہ باہر کرفیو لگا دیا گیا ہے۔
جب آپریشن شروع ہوا تو باجیاں اپنی ٹینشن میں تھیں۔ باجیوں سے ہماری ملاقات زیادہ نہیں ہوتی تھی، زیادہ باتیں لڑکیوں سے ہی سنیں۔ جو ان کے گھر والے انہیں موبائل پر بتاتے۔
یہیں شہید ہو کر آؤں گی۔ |
ہاں اس دن یہ بھی سنا تھا کہ لڑکیاں کہہ رہی تھیں کہ حکومت کہہ رہی ہے کہ آپ لوگ نکل آئیں باہر تو آپ کو کچھ نہیں کہا جائےگا تو اگر آپ نہ نکلے تو یہاں آپ کو مار دیا جائے گا تو ہم نے کہاں ٹھیک ہے مار دیا جائے۔
ہمارے ساتھ ایک لڑکی تھی۔ وہ گھر والوں کی وجہ سے گئی۔ وہ گھر والوں کی وجہ سےزبردستی گئی۔ اس کے گھر کے لوگ اسے لینے کے لیے آ گئے تھے۔ اس کی امّی نے بہت زیادہ باتیں سنائیں۔ اس کا دل بالکل نہیں کر رہا تھا۔ وہ رونے لگی۔ اس نے آپی جان سے کہا ہے کہ ’آپی جان میں نہیں جاتی‘۔ آپی جان نے کہا ہے ’بیٹا آپ کے گھر والے آ گئے ہیں لینے کے لیے تو آپ لوگ چلے جائیں‘۔ تو اس وجہ سے وہ چلی گئی ہے۔
والدین نے زبردستی کی |
اس بات پر ہمیں دکھ ہوتا ہے کہ والدین انہیں زبردستی لے گئے ہیں۔ کچھ لڑکیاں تو ڈر کی وجہ سے گئیں۔ لیکن وہ زیادہ ترچھوٹی تھیں لیکن جو بڑی طالبات تھیں ان کے گھر والے تو انہیں زبردستی لے کرگئے ہیں۔
ہم اپنی کلاس میں تھے جب ہیلی کاپٹر وغیرہ کی آوازیں آئیں۔ ہم نے کہا کہ شاید یہ اوپر سے بم وغیرہ پھینک دیں تو بس ہم لوگوں نے اللہ کا ذکر کرنا شروع کر دیا۔ نفل وغیرہ پڑھنے شروع کر دیے کہ بس اب ہمارا آخری ٹائم ہے۔ ہمیں بس یہی فکر تھی کہ زخمی نہ ہوں اور گرفتار نہ ہو جائیں۔ بس اس بات کا ہمیں خوف تھا۔
ہم بدھ کی شام سے اپنے کمروں سے منتقل ہوئے ہیں۔ بدھ کی ہی شام کو ایک جاسوس اندر آئی۔ اس نے کچھ ایسی باتیں کیں ہیں کہ بہت سی لڑکیاں مدرسہ چھوڑ کر باہر چلی گئیں۔ پھر مدرسے میں لڑکیاں کم رہ گئی تھیں۔ پھر ہم لوگ دائرہ عائشہ (مدرسے کے ایک حصے کا نام) میں گئے۔ وہاں دو کمرے تھے ہم اس میں منتقل ہو گئے۔ بمباری بہت زیادہ ہوتی رہی۔ صحن میں دو کمرے ہیں، مستشفیٰ ہے اور اس کے ساتھ والا کمرہ۔ انہی دو کمروں میں ہم رہے، پھر بہت زیادہ بمباری ہو رہی ہے، بہت زیادہ آنسو گیس پھینکی جا رہی ہے۔
بہت سی باجیاں بھی چلی گئیں |
پھر اس کے بعد جامعہ کی انتظامیہ نے فیصلہ کیا کہ اب والدین کو اندر نہیں آنے دیا جائے گا۔ جالیوں والا دروازہ جسے گرل کہتے تھے وہ دروازہ بند کیا گیا اور ہمیں بتایا گیا کہ اب آپ میں سے جس کے گھر والے بھی آئیں گےتو جہاں پر مائیک لگا ہوا ہے، انہیں وہاں کھڑا کیا جائے، پھر ان سے پوچھا جائے گا ان کی بیٹی کون ہے۔ کس درجے میں پڑھتی ہے۔ سب پوچھ کے، پرچی بنا کر اندر بھیجی جائے پھر بچیوں کو باہر بھیجا جائے گا۔
اندر یہ بات ہوئی لیکن باہر انہوں نے کہا ہے کہ ہماری بچیوں کو زبردستی روک لیا ہے، باہر آنے نہیں دے رہے۔ یرغمال بنا لیا ہے۔ اصل بات یہ تھی کہ والدین کے بھیس میں جاسوس کو اندر آنے سے روکا جائے۔ پھر اس کے بعد جو بڑی انتظامیہ ہے انہوں نے کہا ہے کہ والدین کو اندر نہ آنے دیا جائے۔ نہیں اب والدین کو اندر نہیں آنے دینا۔ باہر کھڑا کیا جائے۔ وہاں سے عورتوں کو پوچھا جائے کس حلقے میں آپ کی بیٹی ہے، کس درجے میں ہے تو پھر وہاں سے طالبات کو باہر بھیجا جائے والدین کو اندر نہ لایا جائے۔