Thursday, 19 July, 2007, 22:30 GMT 03:30 PST
رفیہ ریاض
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
ہم کلاس میں تھے۔ معلمہ پڑھا رہی تھیں۔ بارہ بجے ہمیں پتہ چلا کہ باہر پولیس آ چکی ہے۔ ایک باجی نے کلاس میں آ کر کہا کہ سب برقعے پہن لیں، باہر پولیس آ گئی ہے۔ لڑکیوں نے برقعے وغیرہ پہنے، پھر ہلچل مچ گئی پورے مدرسے میں۔ ہم برقعے پہن کر چھتوں وغیرہ پر چلےگئے۔
پھر ہمارے استاد جی مولانا عبدالعزیز صاحب نے بیان دیا کہ رینجرز واپس چلے جائیں۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ اگر ہماری بہنوں پر ہاتھ اٹھایاگیا تو بہت برا ہوگا۔ ہم استاد جی کابیان سن کر سیدھی کلاس میں آ گئیں۔ مگر ابھی ہم کلاس میں بیٹھے ہی تھے کہ ہماری دوسری معلمہ آ گئیں اور کہا کہ باہر مظاہرہ ہو رہا ہے اور آپ لوگ کلاس میں اندر بیٹھی ہو، مظاہرے کے لیے باہر نکلو۔
جب ہم لوگ مظاہرہ کے لیے باہر نکلے تو روڈ پر نکلتے ہی انہوں نے آنسو گیس پھینکی۔ اس کے فورا بعد فائرنگ شروع ہو گئی اور پھر اس کے بعد بس فائرنگ ہوتی رہی۔ مدرسے کا انتظام درہم برہم ہو گیا۔ آنسو گیس کی وجہ سے بہت سی لڑکیاں بے ہوش ہو گئیں۔ اس کے بعد ہمیں اندر آنے کا راستہ نہیں ملا۔ مجھے ہوش بھی نہیں تھا اس لیے یہ نہیں معلوم کہ ہمیں کس نے اٹھایا ہے اور کہاں بھیجا؟
میری طبعیت بہت زیادہ خراب تھی۔ جب آنکھ کھلی تو میں مدرسے میں تھی۔ بس اس کے بعد ہمیں باہر نہیں آنے دیا گیا کیونکہ باہر فائرنگ ہو رہی تھی۔ مجاہدین بھائیوں نے کہا کہ آپ لوگ باہر نہیں آنا۔
وہ کچھ اسلحہ بھی ساتھ لائے تھے |
انہوں نے بھی پوزیشنیں سنبھال لیں، وہ اُدھر سے فائرنگ کر رہے تھے اِدھر سے ہمارے بھائیوں نے بھی فائرنگ شروع کر دی۔
اس دوران ان کی فائرنگ سے ایک لڑکی شہید ہو گئی۔ ہمارے شیشے بھی ٹوٹ چکے ہیں۔ اوپر والی منزل پر جو لڑکیاں تھیں انہیں نیچے لایا گیا ہے۔ مدرسے میں اوپر بہت خطرہ ہے، نیچے آ جائیں، سارے نیچے رہ رہے ہیں۔ وہ شیل بہت زیادہ پھینک رہے ہیں۔ بار بار تھوڑے تھوڑے وقفے سے وہ شیل پھینکتے ہیں۔ مغرب تک اسی طرح صورتحال رہی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے شیل پھینکنا بند کر دیے لیکن فائرنگ زیادہ شروع ہو گئی۔
ہم نے تو پہلے سے نہ تو کھانا وغیرہ جمع کیا تھا اور نہ ہی پانی، ایسا کچھ بھی نہیں کیا گیاتھا۔ ہم ڈنڈوں کو بھول چکے ہیں۔ ڈنڈوں کا ہمیں پتہ ہی نہیں چلا کیونکہ اچانک فوج آ گئی۔ ڈنڈے چھت پر اورمختلف جگہوں پر رکھے ہوئے تھے۔ ہمارے ہاتھ جو لگا ہم وہ لے کر مظاہرے کے لیے باہر نکل گئے۔ کسی کے ہاتھ میں وائپر آیا تو کسی کے ہاتھ میں جھاڑو۔ ہم وہ اٹھا کر باہر نکل آئے۔
بہت سی لڑکیاں بے ہوش ہو گئیں |
ہمیں شام کو پتہ چلا ہے کہ کالج کے طلباء نے عمارت کو آگ لگا دی ہے۔ اس میں اسلحہ وغیرہ بھی تھا۔ ہمیں تبھی پتہ چلا۔ ہمیں کچھ بھی نہیں بتایا گیا کہ باہر یہ کچھ ہو رہا ہے۔
سب پریشان تھے اپنی اپنی ٹینشن میں لگے ہوئے تھے۔ شاید اسی لیے یہ بتانا بھول گئے ہوں۔ کچھ طالبات زخمی بھی تھیں لیکن ہمیں خوشی ہوئی کہ اللہ کے راستے میں زخمی ہونے کا موقع ملا۔