http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 19 July, 2007, 10:35 GMT 15:35 PST

احمدرضا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

لوگ مزدوری کر رہےتھے:عینی شاہد

حب بم دھماکے میں جہاں سات پولیس اہلکار ہلاک ہوئے وہاں مرنے اور زخمی ہونے والے دوسرے افراد میں زیادہ تر عام محنت کش لوگ شامل ہیں جو جائے وقوعہ پر محنت مزدوری کررہے تھے، کچھ گاڑیوں میں سوار تھے، کچھ کام پر جارہے تھے اور کچھ کام سے واپس آرہے تھے۔

سولہ سالہ محمد اسلم نے بتایا کہ وہ سڑک کے کنارے ٹھیلے پر پھل فروخت کر رہے تھے کہ زوردار دھماکہ ہوا اور ہر طرف دھواں پھیل گیا۔ ’میں دھماکے کے ساتھ ہی زمین پر گرگیا، میرے دونوں کان سن ہوگئے تھے، پھر فوجی آگئے انہوں نے فائرنگ شروع کردیا، میں ڈر گیا اور وہاں سے بھاگ گیا، بعد میں مجھے گردن میں درد ہوا تو دیکھا خون نکل رہا تھا‘۔

سِول ہسپتال میں زخمیوں کے ساتھ آنے والے ایک عینی شاہد محمد حنیف نے بتایا کہ جس جگہ دھماکہ ہوا وہ اس سے کچھ فاصلے پر تھے۔ ’جب دھماکہ ہوا تو چاروں طرف دھواں پھیل گیا اور آگ لگ گیا، ہم لوگ وہاں پہنچے تو دیکھا کہ بہت بندے گرے ہوئے تھے، کسی کا ہاتھ نہیں تھا اور کوئی مرا پڑا تھا۔ اس کے بعد فائرنگ شروع ہوگیا جو گھنٹے بھر جاری رہی‘۔

سول ہسپتال کراچی لائے گئے چار زخمی فوت ہوگئے۔ ان ہی میں سے ایک محمد حسن تھے۔ ان کے بڑے بھائی عبدالرؤف نے بتایا کہ حسن سے چھوٹے بھائی حسین بھی شدید زخمی ہیں اور ان کی حالت نازک ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے دونوں بھائی ایک بسکٹ فیکٹری میں کام کرتے ہیں اور فیکٹری کی بس میں ڈیوٹی سے واپس گھر آرہے تھے کہ دھماکے کی زد میں آگئے۔ ان کا کہنا تھا ’سب غریب لوگ مارے گئے ہیں۔ ایک کافر تھا، اس کو اڑانا تھا میں نے سنا کہ جب وہ گزر گیا تو بم پھٹ گیا اور سارے مسلمانوں کو اڑا دیا‘۔

ایک اور زخمی ابراہیم کاکڑ نے بتایا کہ وہ ہوٹل پر بیرے کا کام کرتے ہیں۔ ’میں چائے لے کر باہر جا رہا تھا کہ ایک دم دھماکہ ہوا، پیچھے دیکھا تو کوئی چیز آکر میرے چہرے پر لگی اور وہاں دھواں ہی دھواں دیکھا اور پھر بیہوش ہوگیا‘۔

’ہمارا گھر اس جگہ سے دور ہے میرے بھائی لوگ بتا رہے ہیں کہ دھماکہ اتنا زوردار تھا کہ گھر کے شیشے بھی ٹوٹ گئے ہیں‘۔

دھماکے میں زخمی ہونے والے ایک ٹرک ڈرائیور عدنان بٹ نے بتایا کہ ’میں گاڑی چلارہا تھا کہ سائیڈ میں دھماکہ ہوا، اس کے بعد رینجرز والوں نے فائرنگ شروع کر دی۔ پھر پتہ نہیں کیا ہوا۔ میں نے اتنا ضرور دیکھا کہ لوگ روڈ پر پڑے ہوئے تھے‘۔

محمد اشرف نے بتایا کہ ’جس جگہ دھماکہ ہوا وہ گاڑیوں کا سٹاپ ہے وہاں رکشہ اور دوسری گاڑیاں کھڑی تھیں۔ میری وہاں پرچون کی دوکان ہے اور میں دوکان کے باہر مہمان کے ساتھ کھڑا تھا جب دھماکہ ہوا۔ بہت زوردار دھماکہ تھا۔ میری دکان کی چھت گرگئی۔ رکشہ اور دوسری گاڑیوں میں آگ لگ گئی پھر فوجی لوگوں نے فائرنگ شروع کردیا جس سے لوگ بھاگنا شروع ہوگئے‘۔