Thursday, 19 July, 2007, 14:47 GMT 19:47 PST
رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام ہنگو
صوبہ سرحد کے ضلع ہنگو میں جمعرات کی صبح ہونے والے مبینہ کار بم خود کش حملے میں زخمی ہونے والے عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ جیسے زمین پھٹ گئی ہو یا آسمان ٹوٹ پڑا ہو۔ اس وقت ہر طرف اندھیرا سا چھا گیا تھا۔
سِول ہپستال ہنگو کے ایمرجنسی وارڈ میں زیر علاج عزیز اللہ آفریدی نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام بتایا کہ وہ اپنے گاؤں سے سائیکل پر ہنگو شہر جا رہے تھے جب وہ پولیس ٹریننگ کالج کے تربیتی مرکز کے سامنے پہنچے تو وہاں ایک سوزوکی گاڑی میں زوردار دھماکہ ہوا۔
انہوں نے کہا کہ ’دھماکہ مجھ سے کوئی تیس پینتیس میٹر کے فاصلے پر ہوا لیکن اس کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ میں سائیکل سے گر گیا اور کچھ پتھر کے ٹکڑے بھی لگے جس سے میرے چہر پر زخم آئے۔‘
عزیز اللہ نے بتایا کہ ’اس وقت عجیب قسم کے حالات تھے، میں زور زور سے کلمہ پڑھ رہا تھا۔ میرے ساتھ زمین پر اور بھی زخمی پڑے تھے جو مدد کےلیے چیخ رہے تھے۔‘
اس دھماکے میں زخمی ہونے والے کچ کلی کے ایک عینی شاہد سوات خان نے بتایا کہ وہ سواریوں کی گاڑی میں اورکزئی ایجنسی کے ہیڈ کوارٹرز جا رہے تھے اور ان کے ساتھ گاڑی میں بارہ دیگر سواریاں بھی تھیں۔
سوات خان کے بقول ’دھماکے کے بعد ہر طرف اندھیرا سا چھا گیا اور ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے زمین پھٹ گئی ہو یا آسمان ٹوٹ پڑا ہو۔ لوگ ادھر ادھر بھاگ رہے تھے، کسی کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا، ہر طرف افراتفری کا ماحول تھا۔ بعض لوگ چیخ چیخ کر رو رہے تھے لیکن تھوڑی دیر کے بعد پولیس والے آئے اور انہوں نے زخمیوں کو اٹھایا۔‘
انہوں نے بتایا کہ جس گاڑی میں حملہ آور آیا تھا اس گاڑی کے ٹکڑے دور دور تک گرے ہیں جس سے اردگرد گاڑیوں میں سوار لوگ زخمی ہوئے جبکہ اس کے علاوہ ایک اور پِک اپ گاڑی کو بھی نقصان پہنچا ہے۔