http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 19 July, 2007, 11:58 GMT 16:58 PST

نیئر شہزاد
اسلام آباد

سفارت کاروں کو احتیاط کی ہدایت

اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر چودھری محمد علی نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان سفارت کاروں سے کہا گیا ہے کہ وہ شہر میں کہیں جانے سے پہلے انتظامیہ کو آگاہ کریں تاکہ ان کی حفاظت کے لیے سکیورٹی کے مناسب انتظامات کر سکیں۔

دوسری طرف وفاقی دارالحکومت میں ہونے والے خودکش حملے کے بعد اسلام آباد پولیس کے سربراہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان وارداتوں کو روکنے کے لیے انسداد دہشت گردی سکواڈ میں اضافہ کریں۔

ذرائع کے مطابق وفاقی دارالحکومت کے پولیس کے سربراہ سے کہا گیا ہے کہ وہ شہر میں موجود انسداد دہشت گردی کے سکواڈ میں اضافہ کریں کیونکہ لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے خلاف آپریشن اور منگل کو ایف ایٹ تھری میں ہونے والے خودکش حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کو کنٹرول کرنے میں یہ سکواڈ موثر کردار ادا کر سکتے تھے۔
شہر کے اہم مقامات پر سکیورٹی فورسز کی تعداد میں اضافہ کردیا گیا ہے

سرکاری دستاویز میں اسلام آباد کی پولیس کی کارکردگی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ شہر کی پولیس لال مسجد جیسے واقعات اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔

اسلام آباد پولیس کے حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ہر پولیس سٹیشن سے اچھی جسامت والے دس دس اہلکاروں کا انتخاب کریں اور ان افراد کو ہنگامی بنیادوں پر دہشت گردی کی وارداتوں کو روکنے کی تربیت دیں۔

ادھر اسلام آباد پولیس نے حالیہ دہشت گردی کی وارداتوں کو، جن میں پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا ہے، روکنے کے لیے شہر کے تھانوں کے مورچے بنانے کے علاوہ تھانوں کے باہر خاردار تاریں بھی لگا دی ہیں۔

تھانوں کی حفاظت کے لیے وہاں پر اسلام آباد کی پولیس کے علاوہ پنجاب پولیس کی ایلیٹ فورس کے اہلکار بھی شامل ہیں۔

شہر کے ہر تھانے کے داخلی دروازے بند کردیے گئے ہیں اور تھانے کے باہر پولیس کے دو اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جو پولیس سٹیشن آنے والے افراد کی تلاشی لینے کے بعد انہیں اندر جانے کی اجازت دیتے ہیں۔