Thursday, 19 July, 2007, 10:57 GMT 15:57 PST
نیئر شہزاد
اسلام آباد
انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے جمعرات کو لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز کے جسمانی ریمانڈ میں مزید دو دن کی توسیع کر دی ہے اور اس مقدمے کے تفتیشی افسر کو ہدایت کی ہے کہ وہ ملزم کو اکیس جولائی کو عدالت میں دوبارہ پیش کریں۔
مولانا عبدالعزیز کا جسمانی ریمانڈ تھانہ آبپارہ کے اس مقدمے میں دیا گیا ہے جو رینجرز کے ایک اہلکار کی ہلاکت اور متعدد کے زخمی ہونے پر بنایا گیا تھا۔
عدالت کے جج سخی محمد کہوٹ نے مولانا عبدالعزیز کی اہلیہ امِ حسان کی ضمانت کی درخواست سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے سرکار کو جاری کیے گئے نوٹس میں کہا کہ اس مقدمے کا ریکارڈ اکیس جولائی کو پیش کیا جائے۔
واضح رہے کہ امِ حسان اور ان کی دو بیٹیاں طیبہ دعا اور عصمہ عزیز بھی اسی مقدمے میں پولیس کی تحویل میں ہیں۔ چینی باشندوں کے اغواء کے مقدمے میں ضمانت کے لیے ان کی درخواست کی سماعت بھی اکیس جولائی کو ہوگی۔
مرضی سے ہتھیار ڈالنے پر بھی مقدمہ |
عدالت کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنی مرضی سے انتطامِیہ کے سامنے ہتھیار ڈالے تھے لیکن انتظامِیہ نے ان کے خلاف غلط مقدمہ درج کر کے انہیں جیل بجھوا دیا۔