Wednesday, 18 July, 2007, 17:01 GMT 22:01 PST
عبدالحئی کاکڑ
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں مقامی طالبان کے کمانڈر مولانا فقیر محمد نے کہا ہے کہ پاکستان میں موجود ’مجاہدین‘ اسامہ بن لادن اور ملا عمر کی سربراہی میں متحد ہیں اور مختلف علاقوں میں مختلف ناموں سے سرگرم عمل ہیں۔
بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے مولانا فقیر محمد کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سرگرم ’مجاہدین‘ کی توجہ افغانستان اور عراق میں اتحادی اور امریکی فوجیوں کے خلاف لڑنے پر مرکوز تھی، مگر بقول ان کے جنرل پرویز مشرف کی پالیسیوں نے انہیں مجبور کیا کہ وہ پاکستان کے اندر بھی خود کش حملے کرنے کی حکمت عملی اپنائیں۔
ملا فقیر محمد کا مزید کہنا تھا کہ’اگر جنرل پرویز مشرف نے امریکہ کا ساتھ نہیں چھوڑا تو پھر افغانستان اور کشمیر میں توامن ہو سکتا ہے لیکن پاکستان کی صورتحال خراب سے خراب تر ہوتی جائے گی۔‘
شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان کی جانب سے امن معاہدے کے توڑے جانے سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ معاہدہ حکومت نے توڑا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت مختلف علاقوں میں سرگرم ’مجاہدین‘ کے ساتھ دھوکہ کر رہی ہے۔
مولانا فقیر کے مطابق حکومت طالبان کی طاقت تقسیم کرنے کے لیے انہیں ایک ایک کر کے کچلنے کی کوشش کر رہی ہے اور اس حکمت عملی کے تحت ایک جگہ پر معاہدہ کرتی ہے جبکہ دوسرے مقام پر فوج تعینات کرتی ہے۔ ’لیکن حالیہ حملوں نے حکومت کے ارادوں کو کمزور کر دیا ہے۔‘
واضح رہے کہ مولانا فقیر محمد کو اس وقت شہرت ملی جب گزشتہ برس تیرہ جنوری کو رات تین بجے امریکی طیاروں نے تین مکانات کو بمباری کر کے تباہ کر دیا تھا اور یہ اطلاعات تھیں کہ وہاں پر القاعدہ کے رہنماء ایمن الزواہری مولانا ان کے مہمان کے طور پر موجود تھے۔ مولانا فقیر محمد نے اس کی تردید کی تھی۔
حکومت کے ساتھ امن معاہدے کے بعد ان کی سرگرمیاں کم ہوگئی تھیں، لیکن لال مسجد کے خلاف آپریشن کے بعد مولانا فقیر محمد اور انکے ساتھی ایک بار پھر سرگرم ہوتے نظر آ رہے ہیں۔