Wednesday, 18 July, 2007, 08:25 GMT 13:25 PST
بیورو رپورٹ
بی بی سی اردو ڈاٹ کام
پولیس کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد میں وکلاء کنونشن کے پنڈال کے قریب ہونے والے دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد سترہ ہو گئی ہے۔
ادھر دھماکے کے خلاف وکلاء ملک کے بڑے شہروں میں احتجاج کر رہے ہیں۔ کراچی اور کوئٹہ میں وکلاء نے احتجاجاً عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا ہے۔
اے ایس پی مقدس حیدر کے مطابق اب تک کی تحقیقات سے اس بات کو تقویت مل رہی ہے کہ یہ ایک خود کش حملہ تھا اور خود کش بمبار ایک عورت تھی۔
اسلام آباد کی انتظامیہ نے بم دھماکے کی تحقیقات کے لیے ایک پانچ رکنی ٹیم تشکیل دی ہے۔ اسلام پولیس کے ایس پی سی آئی ڈی محمد علی کی سربراہی میں قائم یہ تحقیقاتی ٹیم ڈی ایس پی سی آئی ڈی کے علاوہ ایف آئی اے کے سپیشل انویسٹی گیشن گروپ، ملٹری انٹیلیجنس اور آئی ایس آئی کے نمائندوں پر مشتمل ہو گی۔
![]() | |
| ہلاک شدگان کے لیے غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی |
بدھ کی صبح تک پولیس نے دھماکہ والی جگہ کو گھیرے میں لیا ہوا تھا اور تمام مارکیٹ بند تھی۔
اسلام آباد کے منگل کی رات ہونے والے دھماکے کے خلاف کراچی اور کوئٹہ میں وکلاء نے احتجاجاً عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا ہے جبکہ کراچی سٹی کورٹس کے احاطے میں ہلاک شدگان کے لیے غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی ہے۔
کوئٹہ میں بی بی سی کے نمائندے ایوب ترین کے مطابق دھماکے کے خلاف بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی اپیل پر بدھ کو کوئٹہ سمیت صوبہ بھر میں وکلاء نے عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا اور اسلام آباد میں دھماکے کو چیف جسٹس کو قتل کرنے کی سازش قرار دیا ہے۔
پنجاب کے وکلاء کی نمائندہ تنظیم پنجاب بار کونسل نے بھی اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کی تقریب میں خود کش حملہ اور اس کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں پر بدھ کو یوم سوگ منانے کا اعلان کیا ہوا ہے۔